Al-Risala · November 1987 · page 37

Poland to privatize State companies

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۷

میں جب کوئی چیز پڑھتا ہوں ۔ خواہ قرآن و حدیث پڑھوں یا اور کوئی چیز پڑھوں تو مطالعہ کے دوران ذہن کسی خاص پہلو کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔ بس اس کو میں کاغذ پر لکھ لیا کرتا ہوں ۔ یہی میرا مضمون ہے ۔ میرے تمام مضامین " آمد " ہوتے ہیں نہ کہ " آورد " اس طرح ہر روز کثیر تعداد میں مضامین ذہن میں وارد ہوتے ہیں اور ان کو میں لکھتا رہتا ہوں ۔ یہ مضامین اکثر الرسالہ کی ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ایسے مضامین جو الرسالہ میں نہیں چھپے ، اس وقت بھی میرے پاس اتنے زیادہ ہیں کہ اگر میں مرجاؤں تو ایک آدمی ان مضامین کی بنیاد پر اگلے دس برس تک انشاء اللہ اسی طرح رسالہ کو جاری رکھ سکتا ہے ۔

جلگاؤں ریاست مہاراشٹر کا ایک ضلع ہے ۔ ۱۹ ویں صدی سے پہلے اس کی کوئی اہمیت نہ تھی ۔ اس کے بعد خاندیش کے علاقہ میں روئی کی کاشت شروع ہوئی ۔ یہاں تک کہ خاندیش روئی کی فصل پیدا کرنے کا ممتاز علاقہ بن گیا ۔ اس واقعہ نے جلگاؤں کو اہمیت دیدی ۔ یہاں کپڑے کی صنعت وجود میں آئی ۔ اولاً ہینڈ لوم اور اس کے بعد پاور لوم نے جلگاؤں کو صنعتی مقام بنا دیا ۔

ہر ترقی کے لیے ایک زمین در کار ہوتی ہے ۔ جب تک موافق زمین فراہم نہ کی جائے ، کسی بھی قسم کی کوئی ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔

جلگاؤں میں ہر سال سارہ جنگ گینیش اتسو کا جلوس نہایت دھوم سے نکلتا ہے ۔ اسی زمانہ میں ایک دو دن کے فرق سے مسلمانوں کا محرم کا جلوس بھی نکلتا ہے ۔ ہندوؤں کو محرم کے جلوس کے راستہ ( روٹ ) پر اعتراض ہوتا ہے اور مسلمانوں کو ہندوؤں کے جلوس کے راستہ (روٹ ) پر ۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے درمیان تناؤ بڑھتا ہے اور فساد کی صورت پیدا ہو جاتی ہے ۔

۱۹۸۵ میں یہاں کے کلکٹر نے دونوں فرقوں کے لوگوں کی میٹنگ بلائی اور ان کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ دونوں فرقے اپنے اپنے جلوس کا راستہ ( روٹ ) بدل دیں ۔ مسلمان اپنے جلوس کا راستہ بدلنے پر راضی ہو گئے مگر ہندو صاحبان اپنے جلوس کا راستہ بدلنے پر راضی نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page