Al-Risala · November 1987 · page 38

Poland to privatize State companies

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۸

ہوئے۔ وقت پر جب جلوس نکلا اور وہ چلتا ہوا اسلام پورہ کے علاقہ کی مسجد کے پاس پہنچا تو وہاں کے مسلمانوں میں تناؤ پیدا ہو گیا۔ لوگوں نے طیش میں آکر چاہا کہ باہر نکلیں اور جلوس کو روکیں ۔ کلکٹر نے دوبارہ کہا کہ آپ لوگ اپنے گھروں میں ٹھہریئے، ہم کو اس مسئلہ سے نمٹنے دیجئے۔ مسلمانوں نے کلکٹر کی بات مان لی اور جلوس کے سامنے نہیں آئے۔ جلوس مسجد کے سامنے رکا ہوا تھا اور اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا۔ مثلاً جس کو ہونا پاکستان ، اس کو بھیجو قبرستان ۔ یا ہندی، ہند و ہندوستان ملا بھاگو پاکستان ۔ کلکٹر نے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اعلان کیا کہ آپ لوگ پانچ منٹ کے اندر آگے بڑھ جائیے، ورنہ آپ کے اوپر لاٹھی چارج کر دیا جائے گا۔ ایک طرف مجمع اپنی اشتعال انگیز کارروائیوں میں مشغول رہا۔ دوسری طرف کلکٹر نے گھڑی کی سوئی کو دیکھنا شروع کیا۔ جیسے ہی گھڑی کی سوئی نے بتایا کہ پانچ منٹ پورے ہو گئے، کلکٹر نے فوراً پولیس کو لاٹھی چارج کا آرڈر دے دیا۔ اس کے بعد پولیس نے جلوس کو مارنا شروع کیا۔ یہ " پولیس ایکشن " اتنا سخت تھا کہ سارا جلوس بھاگ کھڑا ہوا اور سڑک بالکل خالی ہو گئی۔

ایسے مواقع ملک کے مختلف حصوں میں پیش آتے ہیں۔ ان میں مسلمان یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ صبر اور حکمت کا ثبوت نہیں دے پاتے ، وہ خود لڑنے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ اگر ایسے مواقع پر وہ صبر اور حکمت کا ثبوت دیں تو ہر جگہ وہی کہانی دہرائی جائے جس کا ایک نمونہ جلگاؤں کے مذکورہ واقعہ میں نظر آتا ہے ۔

۹ اپریل کی شام کو جلگاؤں سے اورنگ آباد کے لیے واپسی ہوئی۔ جلگاؤں سے اورنگ آباد کا فاصلہ بذریعہ روڈ ۱۶۰ کلومیٹر ہے۔ جلگاؤں سے اورنگ آباد آتے ہوئے عصر کی نماز راستہ میں ادا کی گئی۔ میرے ساتھیوں کی رائے ہوئی کہ کھلی جگہ پر نماز ادا کی جائے ایک جگہ سڑک کے کنارے ٹیوب ویل لگا ہوا تھا۔ یہاں گاڑی روک کر ہم سب نے وضو کیا اور کھیت میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کی ۔

دور تک کھلا میدان تھا جس میں جگہ جگہ درخت اُبھرے ہوئے تھے۔ ان کے آگے پہاڑوں کی بلندیاں نظر آتی تھیں۔ اوپر آسمان اپنی ساری وسعتوں کے ساتھ پھیلا ہوا تھا۔ یہ ماحول اپنی اتھاہ عظمتوں کے ساتھ انسانی عجز کی یاد دلا رہا تھا۔ ایسے آفاقی ماحول میں جب

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page