Al-Risala · November 1987 · page 39

Poland to privatize State companies

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹

اللہ کے چند بندے "اللہ اکبر" کہتے ہوئے سجدے میں گر پڑیں تو یہ ایسا منظر ہوتا ہے جیسے کائنات کی خاموشی کو زبان مل جائے، جیسے بے شعور مخلوق اور باشعور مخلوق دونوں اپنے خالق کا اقرار کرنے کے لیے ہم آہنگ ہو گئے ہوں۔

جلگاؤں سے اورنگ آباد جاتے ہوئے راستہ میں اجنتا کے غار آتے ہیں۔ یہاں پتھر کا وہ قدیم صنعت دیکھی جس کو قرآن میں الذین جابوا الصخر بالواد کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی پہاڑ کی چٹانوں کو تراش کر گھر یا مورت وغیرہ بنانا۔ قدیم زمانہ کی صنعتوں میں سے ایک صنعت یہ بھی بھی۔ اجنتا کے غاروں کے بارے میں خود لکھنے کے بجائے میں مولانا اکبر الدین متاسمی کے الفاظ نقل کرتا ہوں جنھوں نے اجنتا کے مشاہدہ کے بعد مجھے ایک خط میں لکھا تھا :

" جلگاؤں سے واپسی میں اجنتا ایک مقام ہے جہاں کے غار بہت مشہور ہیں وہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ بدھ مذہب کا کسی زمانے کا بہت بڑا سنٹر معلوم ہوتا ہے۔ یہاں کل ۳۲ غار ہیں جن میں گو تم بدھ کے کئی ہزار مجسمے مختلف انداز سے تراشے اور اتارے گیے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اجنتا کے اس مقام پر جو آبادی ہے وہ مسلم اکثریتی آبادی ہے جہاں سیاسی اور معاشی طور پر مسلمان چھائے ہوئے ہیں۔ سرپنچ اور دیگر سیاسی عہدے مسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کسی وقت دعوتی کام ہوا تھا جس کی وجہ سے یہاں کی فضا بدھ مذہب کے ماحول میں تھی مسلم فضا بن گئی۔ یہاں ایک تاریخی مسجد ہے۔ جو آصف جاہ اول نے بنائی تھی۔ بڑی شاندار اور لمبی چوڑی مسجد ہے۔ خوبصورت کمانیں کشادہ صحن مسجد کو با وقار بنائے ہوئے ہیں۔ یہاں عشاء کی نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ نماز کے بعد جب منبر (خطبہ جمعہ کی جگہ پر نظر پڑی تو وہاں "تذکیر القرآن " رکھی ہوئی تھی۔ امام مسجد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ تفسیر یہاں ہر روز بعد نماز فجر سنائی جاتی ہے ۔ یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ لوگوں میں تذکیر کی غذا حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو رہا ہے ۔ اللهم زد فزد "

اورنگ آباد میں میرا قیام صوبیدار گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ یہاں ایک لطیف پیش آیا

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page