Poland to privatize State companies
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۰
میں اپنے کمرہ کے باتھ روم میں داخل ہوا تو وہاں کوئی چیز حرکت کرتی ہوئی نظر آئی۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک بڑا سا مینڈک تھا۔ میں نے گیسٹ ہاؤس کے آدمی سے کہا کہ یہاں باتھ روم میں ایک مینڈک ہے۔ اس نے جواب دیا: ہاں، یہاں چوں کہ چاروں طرف باغ ہیں، اس لیے کبھی کبھی باہر سے مینڈک آ جایا کرتے ہیں۔
ایک سال پہلے دہلی میں اشوک ہوٹل کے کمرے میں یہ واقعہ پیش آیا تھا کہ وہاں کیڑے رینگتے ہوئے نظر آئے جس کی وجہ سے ایک امریکی وفد ہوٹل چھوڑ کر چلا گیا۔ اور رنگ آباد کا گیسٹ ہاؤس اور دہلی کا اشوک ہوٹل دونوں حکومت کی ملکیت ہیں۔ آخر سرکاری اداروں ہی میں کیوں اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ " پبلک سیکٹر" کو ہندوستان میں "پرائیویٹ سیکٹر" کے لیے بطور نمونہ قائم کیا گیا تھا۔ مگر اب پرائیویٹ سیکٹر ہی پبلک سیکٹر کے لیے نمونہ بن رہے ہیں۔
۱۰ اپریل کی صبح کو واپس آتے ہوئے اورنگ آباد ائیر پورٹ میں داخل ہوا تو سیکیورٹی چک پر ایک شخص پولیس کی وردی میں کھڑا ہوا تھا۔ حسب معمول اس نے "چیکنگ" کی۔ اس کے بعد میرے اور اس کے درمیان مندرجہ ذیل مکالمہ ہوا۔
آپ کہاں رہتے ہیں دہلی میں آپ کا نام کیا ہے وحید الدین السلام علیکم (مصافحہ کرتے ہوئے) " میرا نام عثمان علی خان ہے۔ میرے لیے دعا فرمائیے۔ " مذکورہ آدمی کی شخصیت پولیس کی وردی میں چھپی ہوئی تھی۔ مگر جیسے ہی اس نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے السلام علیکم کہا، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ پولیس کی وردی کے اندر سے ایک نیا انسان نکل آیا ہے ۔ اسی طرح ہر انسان کے اندر ایک اور انسان چھپا ہوا ہے۔ پہلے انسان کو آپ ہر وقت دیکھ سکتے ہیں۔ مگر دوسرا انسان صرف اس وقت سامنے آتا ہے جب کہ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آکر اس کا پردہ پھاڑ دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues