Al-Risala · November 1987 · page 41

Poland to privatize State companies

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۱

میں سونے اور جاگنے کی کیفیت کے درمیان اپنی سیٹ پر تھا کہ اناؤنسر کی آواز کان میں آئی : اب سے کچھ عرصے بعد ہمارا و مان دہلی کے ہوائی اڈہ پر اترے گا مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی کہنے والا کہہ رہا ہو کہ " اب سے کچھ عرصے بعد تمہارا جنازہ قبر میں اترے گا " یہ سوچ کر بدن پر کپکپی طاری ہو گئی۔ جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ دل سے دعا نکلی کہ خدایا، آپ نے خیریت کے ساتھ دلی پہنچا دیا ہے، اسی طرح خیریت کے ساتھ آخرت کی بہترین منزل تک پہنچا دیجئے ۔ ہر سفر بالاخر موت پر ختم ہونے والا ہے۔ مگر لوگ ہر سفر اس طرح کرتے ہیں گویا کہ وہ زندگی کی منزل پر پہنچ رہے ہیں۔

سفر سے واپسی کے بعد جناب ایس اے ناصر صاحب کا خط (۱۳ اپریل ۱۹۸۷)

موصول ہوا ہے۔ ان کا وطن جا منیر ہے۔ مگر وہ جلگاؤں کے ایک کالج میں استاد ہیں ۔ چنانچہ وہ زیادہ تر جلگاؤں میں رہتے ہیں۔ وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں: یہاں جلگاؤں میں آپ نے لوگوں کے دلوں میں تشنگی بڑھادی ، جو اتنا کم وقت یہاں مل سکا۔ آئندہ انشا اللہ نئے عزم کے ساتھ کام ہو گا۔ جامنیر میں تو آپ لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا کر گیے۔ آپ کی جامنیر کی تقریر کیسٹ سے کاغذ پر نقل کر لی گئی ہے اور اخبار کو برائے اشاعت بھیج دی گئی ہے۔ اگر نظر ثانی کر کے اس کو کتابچہ کی شکل میں چھپوالیں تو بہت بہتر ہوگا۔ یہ تقریر کچھ سمجھہ دار لوگوں نے کیسٹ سے سنی تو کہنے لگے کہ ایسا پروگرام تو جلگاؤں میں ہونا چاہیے تھا ۔ اور اب وہ دوبارہ خواہش ظاہر کر رہے ہیں کہ یہاں پوری تیاری کے ساتھ پروگرام ہو" پروفیسر این جی قاضی (اورنگ آباد) اپنے خط مورخہ ۱۵ مئی ، ۱۹۸۷ میں لکھتے ہیں: ’’جامنیر میں بعد نماز عصر آپ نے نماز کی حقیقت پر جو روح پر ور بیان دیا، واقعی بے حد مؤثر تھا۔ اس سے نہ صرف آنکھیں نم تھیں بلکہ دل و دماغ بھی رشد و ہدایت کی ضیا سے منور ہورہے تھے۔ اور میں تو اپنے آپ میں ایک انقلابی تبدیلی محسوس کر رہا تھا۔ اسی طرح نیشنل انٹیگریشن اور اسلام پر جامینیر میں آپ نے جو خطاب عام فرمایا اور جس انداز سے حقیقت کو پیش کیا ، اس سے تعلیم یافتہ طبقہ خصوصاً غیر مسلم بے حد متاثر ہوئے "

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page