Al-Risala · November 1987 · page 42

پریس کانفرنس سے خطاب

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۲

پریس کانفرنس سے خطاب

سب سے پہلے میں یہ بات صاف کردینا چاہتا ہوں کہ ہماری یہ پریس ملاقات کسی پولیٹکل اشو پر نہیں ہے۔ اور نہ ان باتوں میں سے کسی بات پر ہے جس کو عام زبان میں کرنٹ ٹاپک یا برننگ ٹاپک کہا جاتا ہے۔ ہم اس وقت صرف مارل اشوز پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں پہلے ہی یہ بات بھی کہہ دوں کہ اس ملاقات میں آپ کی طرف سے جو سوالات آئیں وہ اسی اصل ٹاپک پر آئیں۔ اس خاص ٹاپک سے باہر سوال و جواب کے لیے ہم آپ سے معافی چاہتے ہیں۔

آپ نے شاید آج (۱۴ فروری ۱۹۸۷ء) کے انڈین ایکسپریس میں انڈیا کے بزرگ جرنلسٹ ایس ملگا وکر (S. Mulgaokar) کا آرٹیکل دیکھا ہوگا جس کی ہیڈنگ یہ ہے : Can systemic changes provide the entire answer? اس آرٹیکل کا فرسٹ پارٹ پچھلے سٹڈے (۷ فروری) کو آیا تھا۔ اس کا دوسرا پارٹ آج کے انڈین ایکسپریس میں چھپا ہے۔ اس میں مسٹر ملگا وکر نے کہا ہے کہ ہماری انڈیپنڈنس پر چار ڈیکیڈ گزر چکے ہیں۔ ہم نے کئی اعتبار سے پراگریس بھی کی ہے۔ مگر ہمارے پرابلم ابھی بہت زیادہ ہیں، اور مجموعی طور پر ہمارے مسائل ہماری ترقی سے بڑھے ہوئے ہیں :

Our Problems are many and serious, and on balance, appear to outweigh the progress. مسٹر ملگا وکر نے ان لوگوں کی بات کو نہیں مانا ہے جو حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے سسٹم میں چینج کی بات کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سسٹم تو آخر کار آدمی ہی چلاتے ہیں۔ جب آدمی اچھے نہ ہوں تو سسٹم کیسے اچھا ہوگا :

In the final analysis, a system is only as good as those who operate it. مسٹر ملگا وکر کی اس بات سے مجھے اتفاق ہے۔ اس کو بڑھاتے ہوئے میں کہوں گا کہ مہاتما گاندھی نے ہمارے ملک کو پولیٹکل بیس دیا۔ اس کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھ میں پاور آیا اور انھوں نے اس ملک کو انڈسٹریل بیس دیا۔ مگر تیسرا کام ابھی ہونا باقی ہے اور وہ ہے اس

‹ Previous page Next page › Contents of November 1987 All issues

Printed page