Al-Risala · December 1987 · page 11

فرق کا سبب

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۱

فرق کا سبب

راجہ مہندر پرتاپ (۱۸۸۶ - ۱۹۷۹) نے ۱۹۰۷ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ دنیا کا سفر کیا تھا۔ اس سفر میں انھوں نے چار مہینے گزارے اور یورپ، امریکہ، کناڈا، جاپان وغیرہ جاکر نئی دنیا کو اپنی آنکھ سے دیکھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس طرح مجھے عالمی نگاہ حاصل ہوئی۔ میرے سفر نے مجھے مطمئن کر دیا کہ یورپ اور امریکہ کی ترقی کی وجہ جدید مشینوں اور صنعتوں کے سبب سے ہے ۔ میں نے اپنا یہ ذہن بنایا کہ مجھے ہندوستان میں ٹکنکل تعلیم کا آغاز کرنا ہے : Thus I received World Vision. My tour convinced me that the progress of Europe and America was due to modern machines and industries. I made up my mind to start technical education. چنانچہ سفر سے واپسی کے بعد راجہ مہندر پرتاپ نے ٹکنکل اسکول اور ٹکنکل کالج قائم کیا جس کا نام ابتداءُ پریم مہا و دیالیہ تھا۔ انھوں نے اپنی ریاست کے پانچ گاؤں اور ورندابن میں اپنا ایک بہت بڑا مکان اس کام کے لیے وقف کر دیا۔ ان پانچ گاؤں کی آمدنی تقریباً ۳۰ ہزار روپیہ سالانہ تھی ۔ موجودہ صدی کے آغاز میں یہ آمدنی بہت بڑی رقم کے برابر تھی ۔ ۱۹۱۱ میں راجہ مہندر پرتاپ نے دوبارہ مغربی دنیا کا سفر کیا اور انگلینڈ، جرمنی، سوئزرلینڈ اور پیرس کے ٹکنکل کالجوں کو دیکھا تاکہ اس کے مطابق اپنے یہاں کی ٹکنکل تعلیم کے اداروں کو مزید ترقی دے سکیں ۔ دی ٹہ آٹر، اگست ۱۹۰۸)

اکثریتی فرقہ میں راجہ مہندر پرتاپ جیسے بہت سے لوگ ہیں جنھوں نے انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں مغربی دنیا کا سفر کیا۔ اور ہندوستان واپس آکر اس قسم کا تعمیری کام کیا جس کی ایک مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ جب کہ مسلمانوں میں ایسی کوئی بھی مثال موجود نہیں۔

ماضی کا یہی فرق ہے جو دونوں فرقوں کے حال کے فرق کی صورت میں ظاہر ہوا ہے ۔ یہ پھر ٹے پن کا کیس ہے نہ کہ تعصب کا کیس ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page