Al-Risala · December 1987 · page 12

کچھ اور تصویریں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۲

کچھ اور تصویریں

۲۸ اگست ۱۹۸۷ء کو فلپائن میں ناکام فوجی بغاوت ہوئی۔ اس کی اطلاع فوراً بذریعہ ٹیلی فون سی اول میں واقع ٹائم کے دفتر کو دی گئی۔ میگزین کی تین آدمیوں کی ٹیم ہوائی جہاز سے روانہ ہو کر فلپائن کی راجدھانی منیلا پہنچی۔ اس نے واقعہ کی ضروری تصویریں حاصل کیں اس کے بعد سی اول واپس آکر وہ لوگ اپنے تصویر بھیجنے والے مرکز (Photograph-transmission center) میں سرگرم ہو گئے۔ انھوں نے تصویروں کو کمپیوٹر نقطوں (Computer digits) میں تبدیل کر کے کمپیوٹر میں داخل کیا۔ پھر انھیں مصنوعی سیاروں کی مدد سے نیو یارک کے صدر دفتر پہنچایا گیا۔ وہاں ان نقطوں کو دوبارہ رنگین تصویروں میں تبدیل کیا گیا ۔ اس کے بعد یہ تصویریں مضامین کے ساتھ شامل کر کے پریس کے حوالے کی گئیں۔ چند دن کے اندر فلپائن کے ناکام فوجی انقلاب کی باتصویر کہانی چھپ کر تمام دنیا کے قارئین کے سامنے موجود تھی ۔ اس کو بتاتے ہوئے ٹائم (۷ ستمبر ۱۹۸۷ء) نے اپنی رپورٹ ان الفاظ پر ختم کی ہے کہ دنیا کی بہترین تصویر بھی بالکل بے کار ہے اگر وہ ابھی تک کسی شخص کے کیمرہ میں بند ہو :

The best photo in the world is no good if it is still in somebody's camera (p. 3). فطرت کے امکانات کی دریافت نے آج اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ واقعات کی تصویریں نہایت تیز رفتاری کے ساتھ حاصل کر کے شائع کی جاسکیں تاہم آخری بہترین تصویر جو کوئی انسانی کیمرہ کھینچ سکتا ہے وہ بہر حال ایک ظاہری تصویر ہوگی۔ مگر اس دنیا میں کچھ اور تصویریں ہیں جو اس سے بھی زیادہ اہم ہیں۔ یہ تصویریں وہ ہیں جو اندرونی حقیقتوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک انسان کا سچائی کے لیے تڑپنا، ایک انسان کے سینہ میں خدا کی یاد کا بھونچال آنا، ایک انسان کا اپنی انا کو ہلاک کر کے حق کا اعتراف کرنا، یہ اس دنیا کی سب سے زیادہ اعلیٰ تصویریں ہیں۔ مگر وہ ابھی تک "کیمرہ" کے اندر بند ہیں۔ وہ لوگوں کے سامنے نہیں آئیں۔ جس دنیا میں کمتر تصویروں کے اظہار کے لیے اتنا کامل انتظام ہو، کیا وہاں برتر تصویروں کے اظہار کے لیے کوئی انتظام نہ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page