Al-Risala · December 1987 · page 18

Widow-burning a national disgrace

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۱۸

روپ کنور کی ستی کے بعد اس موضوع پر مختلف لوگوں نے تحقیقات کی ہیں۔ بمبئی یونین آف جرنلسٹس (BUJ) نے اس سلسلے میں ایک اسٹڈی ٹیم مقرر کی۔ یہ ٹیم تین تعلیم یافتہ ہندو خواتین پر مشتمل تھی۔ وہ اکتوبر ۱۹۸۷ میں دیورا اگئی اور تمام حالات کی تحقیق کرکے اپنی رپورٹ مرتب کی ۔ اس کے بعد یو این آئی نے اس رپورٹ کو نشر کیا۔ ہندوستان ٹائمز (۲۱ اکتوبر ، ۱۹۸۷) نے اس رپورٹ کواپنے صفحہ اول پر شائع کیا ہے۔ اس کے مطابق رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے : اسٹڈی ٹیم نے پایا کہ ستی کی روایت جو آزادی کے بعد سے ۳۸ جانیں لے چکی ہے ، اس کا اصل سبب راجپوت سماج میں عورتوں کی حیثیت ہے۔ مہلا کانگریس کی جنرل سکریٹری سودھا رائنا نے ٹیم کو بتایا کہ ایک راجپوت بیوہ کے لیے زندگی گویا ختم ہو جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیوہ سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ زمین پر سوئے ، وہ گوشت نہ کھائے ۔ کچھ رنگوں کا استعمال نہ کرے۔ ہر قسم کی تقریبات سے دور رہے۔ خاندان کے ہر مرد کے اقدامات کو برداشت کرے۔

یہ ایک ہلکا سا نقشہ اس صورت حال کا ہے جو ہندو سماج میں بیوہ عورت کے ساتھ پیش آتا ہے ۔ ہندو روایات کے مطابق، بیوہ عورت کی دوسری شادی نہیں ہو سکتی ۔ مزید یہ کہ وہ شادی کے بغیر رہ کر بھی ہندو سماج میں با عزت زندگی کی امید نہیں رکھتی۔ ایسی حالت میں ہندو سماج میں بیوہ ہونے کے بعد ستی ہونے کا رواج شاید اس لیے بھی پڑا کہ عورت نے اس کو نسبتا آسان سمجھا کہ وہ تا حیات ” جلنے کی مصیبت اٹھانے کے بجائے ایک ہی دن میں جل کر ختم ہو جائے ۔ مگر اسلامی روایات کے مطابق اس قسم کا کوئی بھی مسئلہ مسلم بیوہ یا مسلم مطلقہ کے لیے نہیں۔ ایسی حالت میں مسلم مطلقہ کے معاملے کا تقابل ہندو بیوہ کی ستی سے کس طرح کیا جاسکتا ہے ۔

مسلمان بیوہ یا مطلقہ کے لیے دوسرے نکاح کا راستہ پوری طرح کھلا ہوا ہے۔ وہ اسلامی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page