Al-Risala · December 1987 · page 26

قدیم مکہ اور جدید ہندوستان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶

اس کا وجود ممکن نہیں ۔ اس طرح کی کارروائی ناقابلِ قیاس ہے۔ مزید یہ کہ یہ ہندوستان کے سیکولرزم کو ختم کر دے گا اور دستور کی دفعہ ۲۵ کے خلاف ہوگا۔ جو کہ تمام باشندوں کو ضمیر کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے اور عقیدہ اور عمل اور مذہبی تبلیغ کا آزادانہ حق تسلیم کرتی ہے۔ زمانہ کا فرق یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ قدیم مکہ اور جدید ہندوستان میں یہ فرق کیوں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ قدیم مکہ کے لوگوں نے قرآن پر پابندی لگانا چاہا اور وہ اس میں پوری طرح کامیاب ہو گئے۔ اس کے برعکس جدید ہندوستان میں کچھ افراد کی طرف سے قرآن پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی۔ مگر خود حکومت اور عدالت نے پابندی لگانے کے اس منصوبہ کی شدید مخالفت کی اور آخر کار اس کو مکمل طور پر رد کر دیا گیا۔

اس فرق کی وجہ زمانہ کا فرق ہے ۔ قدیم زمانہ مذہبی تشدد کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں دوسرے مذہب کو برداشت نہیں کیا گیا۔ اور موجودہ زمانہ میں ہر مذہب کے لیے آزادی کا حق تسلیم کیا جا رہا ہے ۔ قدیم رواج کے مطابق یہ بالکل جائز تھا کہ ایک شخص اگر قومی مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرے تو اس پر روک لگائی جائے ۔ اس پر سختیاں کی جائیں ۔ حتیٰ کہ اس کو مار ڈالا جائے ۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو فکری اور علمی انقلاب ہوا ہے ، اس نے انفرادی آزادی کو آخری حد تک مقدس قرار دے دیا ہے ۔ اب ہر شخص کے لیے یہ حق بلا شرط تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ آزاد ہے کہ جو مذہب چاہے اختیار کرے ، جس مذہب پر چاہے عمل کرے اور جس مذہب کو چاہے پرامن طور پر اس کی تبلیغ کرے ۔ یہ موجودہ زمانہ میں ہر آدمی کا ایک مسلمہ حق ہے ۔ مذہبی تشدد کے دور میں قرآن پر پابندی لگادی گئی تھی ۔ مگر مذہبی آزادی کے دور میں اس پر پابندی لگانے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی ۔ یہ واقعہ دونوں زمانوں کے فرق کی ایک واضح مثال ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج دنیا کے حالات اس سے بالکل مختلف ہیں جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے قدیم مکہ میں پائے جاتے تھے ۔

دورِ جدید کی اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے یہاں ہم ایک اور واقعہ کا حوالہ دیں گے ۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page