اسپین کی مثال
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۷
واقعہ کا تعلق اسپین سے ہے ۔ یہ واقعہ بھی اسی سال پیش آیا ۔ یعنی ۱۹۸۵ کے آغاز میں ۔ یہ واقعہ عربی مجلہ " العربی " میں تفصیل کے ساتھ باتصویر انداز میں شائع کیا گیا ہے ۔
اسپین کی مثال
" العربی " عربی زبان کا ایک مشہور ادبی اور ثقافی ماہنامہ ہے ۔ وہ کویت کی وزارتِ الاعلام کی طرف سے شائع ہوتا ہے ۔ اس کی اشاعت رمضان ۱۴۰۵ھ (جون ۱۹۸۵ میں ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان ہے :
عبد الرحمن الداخل يعود الى الاندلس
(عبد الرحمن الداخل اسپین میں واپس آتا ہے) یہ ڈاکٹر عفیف بھنسی کا مضمون ہے ۔ وہ ایک مخصوص تقریب میں شرکت کے لیے اسپین گئے تھے ۔ واپس آکر انہوں نے یہ مفصل مضمون شائع کیا ہے ۔
عبد الرحمن الداخل اُموی خاندان کا ایک شہزادہ تھا ۔ وہ ۱۱۳ ھ (۷۳۲ میں پیدا ہوا۔ اس کی عمر بیس سال کی تھی کہ عباسیوں نے دمشق کی اُموی خلافت پر غلبہ حاصل کر لیا ۔ یہ واقعہ ۵۷۰ء میں ہوا۔ اس کے بعد وہ بنو امیہ کے افراد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کرنے لگے ۔ نوجوان عبدالرحمن نے بھاگ کر دریائے فرات کے کنارے ایک باغ میں پناہ لی ۔ عباسیوں کے سپاہی وہاں بھی پہنچ گئے۔ عبدالرحمن فرات میں کود گیا اور تیر کر دریا کے دوسری طرف نکل گیا ۔
اس کے بعد وہ بھیس بدل کر سفر کرتا رہا ۔ وہ دمشق سے فلسطین پہنچا۔ وہاں سے مصر گیا پھر تیونس پہنچا جو افریقہ کا ایک ساحلی ملک ہے ، وہاں سے وہ ایک کشتی پر سوار ہوا اور سمندری سفر کرتے ہوئے اسپین کے اس ساحلی مقام پر اترا جس کو المونیکر (Almunecar) کہا جاتا ہے ۔ دمشق سے اسپین تک پہنچنے میں اس کو پانچ سال لگ گئے ۔ وہ ۱۳۸ ھ (۷۵۶ ء) میں اسپین کی زمین میں داخل ہوا ۔
یہی عبدالرحمن الداخل اموی وہ شخص ہے جس نے اسپین میں عرب سلطنت قائم کی اور یورپ میں تہذیب کے عہد کا آغاز کیا۔ اسپین کا فاتح طارق ابن زیاد ہے مگر اسپین میں باقاعدہ مسلم سلطنت قائم کرنے والا عبدالرحمن الداخل ہی تھا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues