Al-Risala · December 1987 · page 28

عبد الرحمن الداخل يعود الى الاندلس

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۸

اسپین میں مسلمانوں نے ۸ سوسال تک حکومت کی۔ پھر ان کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر عیسائیوں نے ان کو مغلوب کر لیا ۔ اس کے بعد عیسائیوں نے ایک ایک مسلمان کو یا تو قتل کر دیا یا اسپین سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔ اسپین سے ہر مسلم نشان کو بالکل مٹا دیا گیا ۔ ۱۹۸۵ میں عبد الرحمن الداخل کی وفات کو بارہ سو سال پورے ہوئے ہیں ۔ اس مناسبت سے اس سال المونیکر (اسپین) میں اس عرب حکمراں کی ۱۲۰۰ سو سالہ برسی منائی گئی ۔ یہ مقام سمندر کے کنارے غرناطہ سے قریب ہے ۔ غرناطہ اسپین کی آخری مسلم سلطنت کی راجدھانی تھا ۔ اس تاریخی تقریب میں اسپین کے ممتاز افراد اور عرب کے علماء اور سفراءشریک ہوئے ۔ اس کی صدارت اسپین کی ملکہ سوفیا نے کی۔ عبد الرحمن الداخل نے اسپین میں ۳۲ سال تک حکومت کی ۔ اور پھر اسی ملک میں اس کا انتقال ہوا۔

اس تقریب کے موقع پر جو مختلف کارروائیاں ہوئیں ان میں سے ایک کارروائی یہ تھی کہ عبد الرحمن الداخل کا ایک بہت بڑا اسٹیچو تیار کیا گیا اور اس کو المونیکر میں سمندر کے کنارے ایک پر فضا مقام پر لگایا گیا ۔ اس اسٹیچو کا فوٹو ماہنامہ العربی (جون ۱۹۸۵) میں شائع ہوا ہے۔ اسٹیچو میں عبد الرحمن الداخل اپنے داہنے ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے کھڑا ہے اور پر اعتماد چہرے کے ساتھ اسپین کی سرزمین کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ اسٹیچو کے نیچے العربی نے یہ الفاظ لکھے ہیں : تمثال عبد الرحمن الداخل في المنكب من الخلف یعنی المونیکر میں عبد الرحمن الداخل کے اسٹیچو کی تصویر پیچھے کی طرف سے ۔ اسپین میں مسلمانوں کی حکومت آخری طور پر۱۴۹۲ء(۸۹۷ھ) (۸۹۷ھ) میں ختم ہوئی ۔ اس کے بعد وہاں کی عیسائی حکومت نے مسلمانوں پر سخت ترین مظالم شروع کیے ۔ مسلمان یا تو اسپین سے بھاگ گیے یا انہیں قتل کر دیا گیا ۔ ۸۰۰ سالہ حکومت کے بعد اسپین سے ایک ایک مسلمان کا خاتمہ کر دیا گیا ۔ اس کے بعد سے اسپین سب سے بڑا مسلم دشمن ملک بنا ہوا تھا۔

اب اسی ملک میں ۱۹۸۵ میں یہ واقعہ ہوتا ہے کہ وہاں قدیم مسلم فاتح کی یاد منائی جاتی ہے ۔ اور اس کی مستقل یادگاریں قائم کی جاتی ہیں ۔ ایسا ہونا ایک بے حد غیر معمولی بات ہے ۔ یہاں گویا ایک ختم شدہ تاریخ پھر سے اپنے آپ کو دہرارہی ہے ۔ تاریخ کے مٹے ہوئے صفحات دوبارہ انہیں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page