Al-Risala · December 1987 · page 29

عبد الرحمن الداخل يعود الى الاندلس

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹

لوگوں کے ہاتھوں سے لکھے جارہے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے ان کو مٹادیا تھا علمی اور تاریخی نقطہ نظر ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ اس کی وجہ جدید انقلاب ہے۔ جدید ذہنی انقلاب نے قدیم طرز کے تعصب کا خاتمہ کر دیا ہے۔ جدید ذہن کے تحت وہ ماضی دوبارہ دلچسپی کا موضوع بن گیا ہے جو اس سے پہلے صرف نفرت اور فراموشی کا موضوع بنا ہوا تھا۔ متعصبانہ طرزِ فکر نے جس چیز کو رد کر دیا تھا تاریخی طرزِ فکر نے اس کو قبول کر لیا۔ العربی کے مضمون نگار نے لکھا ہے : ونظر الاهمية عبد الرحمن وعهد اسپین کے تمدن کی تاریخ میں عبدالرحمن اور عہد الخلافة فى تاريخ حضارة الاندلس خلافت کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے وہاں کے رأى المسئولون فى الاندلس اليوم انه موجودہ ذمہ داروں نے محسوس کیا کہ یہ ایک اہم من الاهمية توضيح اعمال ضرورت ہے کہ بنوامیہ کے اس بہادر اور عظیم وشخصية هذا الحاكم الاموى حکمران کی شخصیت اور اس کے کارناموں کو الشجاع والعظيم (صفحه ١٦٦) نمایاں کیا جائے۔

موجودہ زمانہ میں عقلیت کا غلبہ ہے۔ آج کا انسان ہر معاملہ میں عقلی نقطہ نظر (Rational approach) کو پسند کرتا ہے ۔ اس نقطہ نظر نے جدید انسان کے تمام معاملات پر گہرا اثر ڈالا ہے ۔ اسی میں سے وہ تبدیلی بھی ہے جس کی ایک مثال ہندوستان اور اسپین کے ان واقعات میں نظر آتی ہے جن کو ابھی ہم نے بیان کیا ۔

جدید انسان پر جب عقلی نقطہ نظر کا غلبہ ہوا تو اس کو یہ بات بالکل بے معنی معلوم ہوئی کہ اسپین کی مسلم حکومت کے آٹھ سو سال جو ایک تاریخی حقیقت ہیں ان کو نظر انداز کیا جائے ۔ مزید یہ کہ یہ آٹھ سو سالہ دور محض حکمرانی کا دور نہ تھا بلکہ وہ ایک شاندار تہذیب کا دور تھا۔ حتیٰ کہ اس دور میں پیدا ہونے والی تہذیب ہی بالآخر یورپ کی جدید تہذیب کی بنیاد بنی ۔ اسپین کی جدید نسل پر جب عقل طرزِ فکر کا غلبہ ہوا تو انہوں نے محسوس کیا کہ مسلم تاریخ کو نظر انداز کر کے وہ خود اپنی تاریخ کے ایک اہم باب کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ غیر عقلی نقطہ نظر نے جس واقعہ کو نفرت کے خانہ میں ڈال رکھا تھا۔ عقلی نقطہ نظر نے اس واقعہ کو دلچسپی کے خانہ میں ڈال دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page