آج کی ضرورت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۰
پہلے جو چیز صرف غیر کی نظر آتی تھی وہ اب خود اپنی چیز نظر آنے لگی ۔ یہی معاملہ ہندوستان کا بھی ہے ۔ ہندوستان میں بعض انتہا پسند لوگ ایسے موجود ہیں جو اپنے متعصبانہ ذہن کی وجہ سے قرآن پر پابندی لگا دینا چاہتے ہیں ۔ مگر یہاں کا جو تعلیم یافتہ طبقہ ہے ، جو ملک کو ترقی کی طرف لے جانا چاہتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ قرآن پر پابندی لگانا ساری دنیا میں اپنے کو فکری اچھوت بنا لینے کے ہم معنی ہوگا ۔ کیوں کہ آج کا تعقل پسند انسان آزادی خیال کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے ۔ عقیدہ اور مذہب کی آزادی آج کی دنیا کا ایک تسلیم شدہ اصول ہے ۔ عالمی فکر کا یہی دباؤ ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی عدالت اور حکومت نے قرآن پر پابندی لگانے کی تحریک کو خود ہی کچل دیا ۔
آج کی ضرورت
اس قسم کے واقعات جو آج کی دنیا میں پیش آرہے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ آج ہمارے لیے اسلامی دعوت کے نئے امکانات کھل گئے ہیں ۔ آج اس کا امکان پیدا ہوگیا ہے کہ کسی روک ٹوک کے بغیر کھلی فضا میں خدا کا پیغام خدا کے بندوں تک پہنچایا جاسکے ۔ دورِ قدیم کے داعیوں نے جو کام مذہبی پابندی کے ماحول میں انجام دیا تھا وہ کام آج مذہبی آزادی کے ماحول میں انجام دیا جاسکتا ہے ۔ جس دعوتی کام کو انہوں نے متعصبانہ رکاوٹوں کے درمیان انجام دیا تھا ، اس کو آج رواداری اور غیر جانب داری کی فضا میں انجام دیا جاسکتا ہے ۔ جس کام کو انہوں نے ہٹ دھرمی کے حالات میں انجام دیا تھا اس کو آج معقولیت پسندی کے حالات میں انجام دیا جاسکتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے فکری انقلاب نے اسلامی دعوت کے لیے بالکل نئے دروازے کھول دیئے ہیں ۔ اب دعوت کے لیے ایسے موافق امکانات پیدا ہو گئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دنیا میں موجود نہ تھے ۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم ان امکانات کو جانیں اور انہیں ہوش مندی کے ساتھ اسلامی دعوت کے لیے استعمال کریں ۔
موجودہ زمانے میں کسی فکر کی تبلیغ واشاعت کے لیے جو نئے مواقع کھلے ہیں ان پر سب سے زیادہ حق خدا کے دین کا ہے اور ان کو سب سے زیادہ خدا کے دین کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues