Al-Risala · December 1987 · page 31

مسلمانوں کی ذمہ داری

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۱

مسلمانوں کی ذمہ داری

مسلمان ختم نبوت کے بعد قائم نبوت پر ہیں۔ ان کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے پیغام رحمت کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچائیں۔ ایک طرف یہ حقیقت ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوں کے حالات اور دنیا کے حالات کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے دوسرے تمام دروازے عملاً مسلمانوں کے لیے بند کرکے صرف ایک دروازہ ان کے لیے کھلا رکھا ہے ۔ اور وہ دعوت الی اللہ کا راستہ ہے ۔

مسلمان پچھلے سو سال سے ساری دنیا میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ مگر ان کی جدوجہد صرف لاحاصل انجام پر ختم ہو رہی ہے۔ بعض ملکوں میں وہ قومی جدوجہد کر رہے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھیں داخلوں اور ملازمتوں اور ممبریوں میں رزرویشن دیا جائے۔ مگر اس جدوجہد سے اب تک بے فائدہ احتجاج کے سوا اور کچھ ان کے حصہ میں نہیں آیا ہے ۔ بعض ملکوں میں وہ سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں ۔ یعنی اسلام کو سیاسی نظام کی حیثیت سے مقام کرنا۔ مگر یہاں بھی پر شور کوششوں کے باوجود بے فائدہ اکھڑ پچھاڑ کے سوا اور کچھ انہیں حاصل نہ ہو سکا۔ بعض ملکوں میں وہ صنعت اور ٹکٹالوجی کی راہ سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر یہاں بھی ایک حقیقت ان کی راہ میں حائل ہے۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک انڈسٹریل ایج میں بھی داخل نہیں ہوئے اور دنیا آگے بڑھ کر سپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہو چکی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میدان میں ان کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں کہ وہ ہمیشہ دوسری قوموں کے پیچھے چلتے رہیں ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی کا رازِ استدام میں ہے نہ کہ تقلید اور احتجاج جیسی کارروائیوں میں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو اس حال میں کر دیا ہے کہ وہ دعوت کے سوا کسی اور راہ میں حقیقی اقدام کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ گویا مسلمان آج کا فرنہ توانی ناچار مسلمان شو کی منزل میں ہیں۔ وہ یا تو دعوت کی راہ میں آگے بڑھنے کے لیے اٹھیں گے یا بے حقیقت ہو کر رہ جائیں گے ۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک پورا دور پیدا کیا ہے جس نے دعوت کے بے پناہ امکانات کھول دیئے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان کو سمجھ کر انھیں استعمال کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page