Al-Risala · December 1987 · page 32

حصہ دوم

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲

حصہ دوم

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے ، یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے ( فان مع العسر يسراً ان مع العسر يسراً ، الانشراح )

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی مشکل صرف مشکل نہیں ہوتی۔ ہر مشکل میں ایک آسانی موجود ہوتی ہے۔ ہر ڈس ایڈوانٹیج میں ایک ایڈوانٹیج کا پہلو چھپا ہوا ہوتا ہے ۔ جس طرح کانٹے کے ساتھ پھول ہوتا ہے ، اسی طرح ہر ناکامی اپنے ساتھ کامیابی کا ایک نیا امکان لیے ہوئے ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی زیادہ سخت ہو جائیں اس دنیا میں آدمی کے لیے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ وہ از سر نو عمل کر کے دوبارہ اپنے حالات کو بہتر بنا سکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا عقل کا امتحان ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کے لیے سب سے زیادہ اہم شرط بالغ نظری ہے۔ یہاں وہ شخص یا گروہ کامیاب ہوتا ہے جو ظاہری مشکل کے اندر چھپی ہوئی آسانی کو دیکھ لے ۔ جو ناموافق حالات (Disadvantage) میں موافق پہلو (Advantage) کو دریافت کرلے ۔

اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ مومن کی ہوشیاری سے بچو ، کیوں کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے ( اتقوا فراسة المومن فانه ينظر بنور الله ) خدا کی نگاہ دور رس نگاہ ہے۔ وہ واقعہ کے تمام پہلوؤں کو دیکھ لیتی ہے اور جو واقعہ کے تمام پہلوؤں کو دیکھ لے اس کی طاقت کا کوئی ٹھکانا نہیں ۔

اصل یہ ہے کہ ایک انسانی نگاہ ہوتی ہے اور ایک ربانی نگاہ۔ انسانی نگاہ محدود ہوتی ہے اور ربانی نگاہ لا محدود ۔ عام انسان خدا کے فیض سے محروم ہوتا ہے اس لیے وہ کسی چیز کو صرف انسانی نگاہ سے دیکھ پاتا ہے ۔ ایسا آدمی کسی واقعہ کے صرف سطحی پہلو کو دیکھتا ہے۔ اگر وہ بظاہر اپنے کو مشکل حالات میں پائے تو شکایت کا دفتر لے کر بیٹھ جائے گا۔ وہ مایوسی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ مگر مومن خدا کے فیض کو پائے ہوئے ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page