Al-Risala · December 1987 · page 33

حصہ دوم

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳

ہے اس لیے اس کو ربانی نگاہ حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ حقیقتوں کو بہت دور تک دیکھتا ہے ۔ وہ کسی چیز کے سطحی پہلو میں نہیں اٹکتا بلکہ وہ اس کو اس کی گہرائی تک جان لیتا ہے۔ قرآن کی آیت (ان مع العسر یسرا) کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مومن عُسر میں یسر کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ مشکل میں آسانی کا راز پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکایت اور احتجاج مومن کا طریقہ نہیں ۔ مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تاریکی میں روشنی کا راز دریافت کرے اور اعتماد کے ساتھ اپنی منزل کی طرف چل پڑے ۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے نگاہ ربانی کو کھو دیا ہے وہ چیزوں کو صرف نگاہ انسانی سے دیکھنا جانتے ہیں، وہ چیزوں کو نگاہ ربانی سے دیکھنا نہیں جانتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے معاملات میں صرف عمر کے پہلو کو دیکھتے ہیں، وہ اپنے معاملات میں یسر کے پہلو کو نہیں دیکھ پاتے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا شکایت اور احتجاج میں مبتلا ہونا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اُس چیز سے محروم ہیں جس کو حدیث میں فراست مومن کہا گیا ہے ۔

قرآن کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں جو مقدمہ دائر کیا گیا تھا اُس کے بارے میں ہمارے تمام لکھنے والوں نے لکھا اور ہمارے تمام بولنے والوں نے اس پر کلام کیا۔ مگر ہر ایک کو صرف اس کا تاریک پہلو نظر آیا۔ ہر ایک اس کو ظلم اور تعصب کا واقعہ قرار دے کر اس کے خلاف چیخ پکار کرتا رہا۔ مجھے کوئی قابل ذکر مسلمان نہیں معلوم جس نے اس واقعہ میں اس کے روشن پہلو کو دیکھا ہو۔ جس نے یہ دریافت کیا ہو کہ ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کو خارج کر کے اس حقیقت کا قانونی اعلان کیا ہے کہ اس ملک میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ لوگوں کو اس واقعہ میں صرف مذہبی تعصب نظر آیا۔ وہ اس میں مذہبی آزادی کے پہلو کو نہ دیکھ سکے۔ یہی معاملہ اسپین کا ہے ۔ اسپین میں مسلمان دوبارہ آباد ہورہے ہیں۔ وہاں سلطان عبد الرحمن الداخل کو دوبارہ مقام دیا گیا ہے۔ میں نے اس واقعہ کا ذکر بعض تعلیم یافتہ مسلمانوں سے کیا۔ آپ تعجب کریں گے کہ ان کا جواب یہ تھا کہ یہ عیسائیوں کی کوئی نئی سازش معلوم ہوتی ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ایک واقعہ میں کھلا ہوا روشن پہلو ہے مگر وہ لوگوں کو نظر نہیں آتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page