Al-Risala · December 1987 · page 34

حصہ دوم

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴

البتہ اس میں موہوم سازش کا امکان انھیں بخوبی دکھائی دے رہا ہے ۔

یہ صورت حال بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک قسم کے ذہنی فاقہ (Intellectual starvation) سے دوچار ہیں ۔ وہ نہایت شدید قسم کے فکری افلاس میں مبتلا ہیں ۔ انھوں نے یہ صلاحیت کھودی ہے کہ وہ واقعات کا گہرا تجزیہ کر سکیں ۔ وہ چیزوں کو اس کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں سے جانچ کر ان کے بارے میں صحیح فیصلہ کر سکیں ۔ وہ حالات کے ظاہری طوفان کے ساتھ اس کے تہہ میں پائی جانے والی پرسکون لہروں کو بھی دیکھ لیں اور گہری معرفت کے ساتھ اپنے سفر کی سمت متعین کریں ۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے جو کچھ لکھ رہے ہیں اور بول رہے ہیں وہ مشترک طور پر صرف ایک ہے ۔ دوسروں کے خلاف چیخ پکار ۔ مسلمانوں کے کسی بھی بیان کو دیکھیے ، کسی بھی ملک میں جا کر ان سے ملاقات کیجیے ۔ ان کی کسی بھی کانفرنس میں شرکت کیجیے ۔ ہر جگہ ایک ہی ذہن کام کرتا ہوا نظر آئے گا ۔ آج دنیا بھر کے مسلمانوں کے ذہن پر یہ چھپا ہوا ہے کہ کچھ اسلام دشمن قومیں ہیں جو ان کو ستارہی ہیں ۔ غیر قوموں کا ظلم ، ان کا تعصب اور ان کی سازش یہی وہ چیزیں ہیں جن کو آج کے مسلمان جانتے ہیں ۔ ان کے سوا کسی اور چیز کی انھیں خبر نہیں ۔

۵۰ سال پہلے امیر شکیب ارسلان نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم (مسلمان کیوں پیچھے ہو گئے اور دوسرے لوگ کیوں آگے ہوگئے) مگر اس لمبی مدت میں مسلمانوں کے قائدین اس سوال کا کوئی جواب اس کے سوا دریافت نہ کرسکے کہ وہ دوسروں کو اپنی بربادی کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف شکایت اور احتجاج کرتے رہیں ۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں صرف عصر کو دیکھنے کے ماہر بنے ہوئے ہیں وہ یُسر کو دیکھنے کے ماہر نہ بن سکے ۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی بربادی کا اصل سبب ظالموں کا ظلم نہیں بلکہ خود مسلمانوں کا اپنا ذہنی افلاس ہے ۔ مسلمان اپنے غلط ذہن کی وجہ سے اس قیمتی فکری غذا سے محروم ہو رہے ہیں جو ان کے چاروں طرف خدا نے ان کے لیے مہیا کر رکھی ہے ۔ وہ اعلیٰ ترین مواقع کے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page