Al-Risala · December 1987 · page 35

وسیع تبدیلیاں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۵

کنارے کھڑے ہو کر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے لیے آگے بڑھنے کا کوئی موقع نہیں۔ وہ حالات کو دیکھ رہے ہیں مگر وہ امکانات کو نہیں دیکھتے۔ ان کی نگاہ "کیا ہے" پر اٹکی ہوئی ہے۔ "کیا ہو سکتا ہے" تک ان کی نگاہ ابھی نہیں پہنچی۔

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصہ میں بتایا گیا ہے کہ ایک بڑے میدان میں فرعون نے مصر کے جادوگروں کو جمع کیا۔ ان جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں میدان میں ڈالیں ۔ جادو کے زور سے یہ رسیاں اور لکڑیاں سانپ کی طرح میدان میں دوڑنے لگیں ۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ کے دل میں ڈر پیدا ہوا۔ بشری تقاضے کے تحت انہیں یہ محسوس ہوا کہ سانپوں کی اس فوج کا مقابلہ وہ کس طرح کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ڈرو مت، تمہیں غالب رہوگے۔ تمہارے ہاتھ میں جو عصا ہے اس کو ڈال دو۔ یہ عصا ان کے تمام سانپوں کو نگل جائے گا ۔ کامیابی تمہارے لیے ہے نہ کہ ان کے لیے۔ اس ہدایت کے تحت حضرت موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر پھینکا ۔ اچانک یہ عصا تمام سانپوں سے بڑا سانپ بن گیا۔ جب وہ میدان میں چلا تو جادوگروں کے تمام سانپ اس طرح ختم ہو گئے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ (طٰہٰ - 69 تا 44)

مسلمانوں کا حال موجودہ زمانہ میں بلا تشبیہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص عصائے موسیٰ اپنے بغل میں لیے ہوئے ہو اور پھر بھی سانپوں سے ڈرتا ہو۔ جیسے کسی کو اللہ نے معجزاتی طاقت دے رکھی ہو مگر وہ جادوگروں کے جادو اور نظر بندوں کی نظر بندی کو دیکھ کر کانپ رہا ہو ۔ جیسے خدا کا قانون پوری طرح کسی کا ساتھ دینے کے لیے موجود ہو مگر وہ انسانوں کے جھوٹے فریب کو دیکھ کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے۔

وسیع تبدیلیاں

صلیبی جنگوں (Crusades) کے بعد یورپ کے عیسائی علماء اسلام کی تعلیمات اور اس کی تاریخ کو بگاڑ کر پیش کرتے تھے۔ مگر سائنس کے زور سے انیسویں صدی میں ایک نیا دور شروع ہوا ۔ سائنس میں جن چیزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے ان میں قطعیت (Exactness) کی بے حد اہمیت ہوتی ہے ۔ اس طرح سائنس کے اثر سے جدید قوموں میں قطعی طرزِ فکر

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page