Al-Risala · December 1987 · page 36

وسیع تبدیلیاں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶

(Exact thinking) کو ترقی ہوئی اور حقیقت پسندی کا انداز پیدا ہوا۔

اس حقیقت پسندانہ طرزِ فکر کا اثر تمام شعبوں پر پڑا۔ اور اسی طرح اسلام کے مطالعہ پر بھی۔ چنانچہ اب یہ ذہن پیدا ہوا کہ اسلام کی تعلیمات اور اس کی تاریخ کو ویساہی لیا جائے جیسا کہ وہ ہیں۔ اس کے بعد استشراق (Orientalism) کا ایک نیا دور شروع ہوا جس میں اسلام کو زیادہ حقیقی انداز میں پیش کیا جانے لگا۔

روس اور چین میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد ابتدائی دور میں مذہب کے خلاف سخت ردِ عمل پیدا ہوا تھا مگر اب وہاں بھی عالمی دباؤ کے تحت اعتدال پیدا ہو رہا ہے اور مذہب کو دوبارہ آزادی دی جا رہی ہے ۔ قدیم زمانہ میں ایک مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کے خلاف صرف مناظرہ بازی کرنا جانتے تھے ۔ آج عالمی سطح پر بے شمار مشترک اجتماعات ہو رہے ہیں جن میں ہر مذہب کے لوگ اپنی تعلیمات کو پیش کرتے ہیں اور دوسرے مذہب کے لوگ اس کو سنجیدگی کے ساتھ سنتے ہیں۔ خود مجھے ایسے کئی اجتماعات میں شرکت کا اتفاق ہوا ہے ۔ دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں عربی زبان اور اسلامیات کے شعبے بہت بڑے پیمانے پر کھولے گیے ہیں جن میں خالص علمی اور تاریخی انداز میں اسلام کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ مغربی دنیا کے غیر مسلم علماءبڑی تعداد میں عربی زبان پڑھ رہے ہیں ۔ وہ مغربی زبانوں میں قرآن وحدیث کے ترجمے کر رہے ہیں ۔ وہ قدیم عربی کتابوں کو ایڈٹ کر کے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کرتے ہیں۔ وہ اسلام کے بارے میں تاریخی اور تحقیقی کتابیں لکھ رہے ہیں ۔ وغیرہ موجودہ زمانہ میں جس طرح سواری ، خبر رسانی اور صنعت و زراعت میں زبردست تبدیلی ہوئی ہے ۔ اسی طرح افکار و خیالات کے اعتبار سے بھی آج کی دنیا میں زبردست تبدیلی ہوئی ہے۔

یہ تبدیلی بین اسلامی دعوت کے حق میں ہے ۔ اس تبدیلی نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ جو کام پہلے سخت رکاوٹوں کے درمیان انجام دینا پڑتا تھا اس کو سہولتوں اور آسانیوں کے درمیان انجام دیا جائے ۔ جو کام پہلے بے اعترانی کے ماحول میں کیا جاتا تھا وہ اب اعتراف کے ماحول میں کیا جائے ۔ جو کام پہلے ہٹ دھرمی کی فضا میں کرنا پڑتا تھا

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page