وسیع تبدیلیاں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹
کی طرف ہجرت فرمائی۔ تاہم مکہ والوں کا غصہ ختم نہیں ہوا۔ انھوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے اسلام کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی۔ اب مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان جنگ پر جنگ ہونے لگی۔ ہر طرف جنگی فضا پیدا ہو گئی۔ اس جنگی فضا کی وجہ سے اسلام کا دعوتی کام تقریباً ٹھپ ہو گیا۔
ہجرت کے چھٹے سال ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عربوں کے پاس اسلام کے لیے نفرت اور تعصب کے سوا اور کچھ نہیں۔ مسلسل جنگی حالات کے نتیجے میں اسلامی تاریخ معطل ہو کر رہ گئی۔ بظاہر اسلام کے لیے ملک میں کوئی روشن امکان نظر نہیں آتا تھا۔
مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے خصوصی فیضان سے یہ جان لیا کہ اس ظاہر کے اندر ایک اور باطن چھپا ہوا ہے۔ اوپر کی سطح پر اگر چہ نفرت اور تشدد نظر آرہا ہے مگر نیچے کی سطح پر اسلام کے لیے انتہائی روشن امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ آپ کی ربانی بصیرت نے آپ کو یہ بتایا کہ اگر کسی طرح جنگی حالات ختم کر دیے جائیں تو اندر کی تہہ میں چھپے ہوئے امکانات ابھر آئیں گے اور اسی جغرافیہ میں اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے گی جہاں وہ بظاہر ختم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
حالات کے اسی مطالعہ سے وہ چیز برآمد ہوئی جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ صلح حدیبیہ حقیقتاً مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی حالات کو ختم کرنے کے لیے یہ کیاکہ مشرکین کے ہر مطالبہ کو یک طرفہ طور پر منظور کر لیا۔ فریق ثانی جب ضد پر تلا ہوا ہو تو فریق اول کے لیے نارمل حالت پیدا کرنے کی ایک ہی صورت ہوتی ہے۔ یہ کہ وہ فریق ثانی کی ضد کو یک طرفہ طور پر مان لے۔
موجودہ زمانہ میں اسلام کی تاریخ دوبارہ اسی مقام پر پہنچ گئی ہے۔ جہاں وہ صلح حدیبیہ کے وقت ہجرت کےچھٹے سال پہنچی تھی ۔ موجودہ زمانہ میں تقریباً پوری مسلم دنیا دوسری قوموں کے نفرت اور تشدد کا شکار ہو رہی ہے۔ مسلمان بھی اس کے خلاف رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ساری مسلم دنیا میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues