Al-Risala · December 1987 · page 40

وسیع تبدیلیاں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۰

بے فائدہ لڑائیاں جاری ہیں ۔ یہ لڑائی کہیں لفظی احتجاج کی صورت میں ہے اور کہیں ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں ۔ بظاہر آج کی دنیا میں اسلام بے جگہ ہے ۔ آج کی دنیا کے پاس اسلام کے لیے نفرت اور بیزاری کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔

لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو حقیقی صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے ۔ آج بھی عین وہی صورت حال ہے جو دور اول میں صلح حدیبیہ کے وقت تھی ۔ اس کی ایک واضح علامت کثرت سے لوگوں کا اسلام قبول کرنا ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مخالف اسلام حالات کے اندر موافق اسلام حالات چھپے ہوئے ہیں ۔ اصل مسئلہ صرف ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کا ہے ۔ اگر ہم اس حکمت عملی کا ثبوت دے سکیں جو رسول اور اصحاب رسول نے صلح حدیبیہ کے وقت استعمال فرمائی تھی تو یقینی ہے کہ دوبارہ بہت بڑے پیمانہ پر وہی نتائج اسلام کے حق میں نکلیں گے جو دور اول میں صلح حدیبیہ کے بعد نکلے تھے ۔

اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کے لیے ایک قربانی کی ضرورت ہے ۔ کسی صورت حال (Situation) کو استعمال (Avail) کرنے کے لیے ہمیشہ قربانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ آج مسلمانوں کو یہی قربانی دینی ہے ۔ یہ قربانی وہی ہے جو صلح حدیبیہ کے وقت رسول اور اصحاب رسول نے دی تھی ۔ یعنی تمام جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے معتدل فضا پیدا کرنا ۔

مسلمان آج تمام دنیا میں ردعمل کی نفسیات میں مبتلا ہیں ۔ چنانچہ وہ اپنی مدعو قوموں سے قومی اور مادی جنگ چھیڑے ہوئے ہیں ۔ یہی جنگ دعوت کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے ۔ اس کی وجہ سے داعی اور مدعو کا رشتہ حریف اور رقیب کے رشتہ میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ دوسری اقوام سے اپنے تمام قومی اور سیاسی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں تاکہ داعی اور مدعو کا رشتہ بحال ہو ۔ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان وہ معتدل فضا پیدا ہو جس میں آدمی دوسرے کی بات سنتا ہے اور اس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کرتا ہے ۔

موجودہ زمانہ میں ایک طرف وہ امکانات ہیں جو جدید تبدیلیوں کے نتیجہ میں اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page