Al-Risala · January 1987 · page 5

انسانی فطرت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۵

انسانی فطرت

ایورسٹ دنیا کی سب سے اونچی پہاڑی چوٹی ہے۔ اس کی بلندی سطح سمندر سے ۲۹۰۲۸ فٹ (۸۸۴۸ میٹر) ہے۔ ۳۰ سال کے اندر تقریباً دس مہمیں اس پر چڑھنے میں ناکام ہو چکی تھیں۔ آخر کار ۲۹ مئی ۱۹۵۳ء کو دو آدمی ہمالیہ کی اس چوٹی پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان میں سے ایک سر ایڈمنڈ ہیلری تھے اور دوسرے تن زنگ نار گے ۔

تن زنگ نار گے (۱۹۸۶ - ۱۹۱۴) نیپال کے ایک پہاڑی قلی تھے۔ اس واقعہ کے بعد اچانک ان کو غیر معمولی شہرت حاصل ہو گئی۔ دنیا بھر سے ان کو دعوت نامے ملنے شروع ہو گئے۔ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور دوسری عالمی شخصیتوں نے ان سے ملاقاتیں کیں ۔ وہ ہمالین ماونٹینرنگ انسٹی ٹیوٹ دارجیلنگ) کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے۔ تن زنگ صرف برائے نام انگریزی جانتے تھے مگر ایک مغربی مصنف جیمز ریمز ے اولمن (James Ramsey Ullman) نے انگریزی زبان میں ان کی سوانح عمری لکھی جو ایورسٹ کا آدمی (Man of Everest) کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ (انڈین ایکسپریس، نئی دہلی ، ۱۰ مئی ۱۹۸۶) ۹ مئی ۱۹۸۶ کو تن زنگ کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد سر ایڈمنڈ ہیلری ہندوستان میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر نے ایک تعزیتی بیان دیا۔ اس بیان میں بتایا گیا تھا کہ تن زنگ جب ایورسٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ۔ تو اس وقت اپنی زندگی کے آخری نقطہ پر، وہ برف پر گھٹنوں کے بل جھک گیے، انھوں نے برف میں چھوٹا سا سوراخ بنایا اور اس کے اندر کچھ شیرینی رکھی۔ یہ دیوتاؤں کے لیے ان کا اظہار عقیدت تھا :

And then, at the high-point of his life, Tenzing knelt in the snow,. made a little hole and put sweets into it, his gesture to the gods. انسان عین اپنی فطرت کے زور پر چاہتا ہے کہ وہ اپنی کامیابیوں کو کسی برتر ہستی کے خانہ میں ڈالے۔ مگر خدائے واحد سے آگاہ نہ ہونے کی بنا پر وہ اس کو فرضی دیوتاؤں کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page