Al-Risala · December 1987 · page 41

نیا دور

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۱

کے حق میں پیدا ہوئے ہیں اور دوسری طرف کشمکش اور ٹکراؤ کی وہ فضا ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ساری دنیا میں جاری ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل کرنا ہے جو سنت چھٹی ہجری میں صلح حدیبیہ کی شکل میں ظاہر ہوئی تھی۔ یعنی غیر مسلم اقوام سے کشمکش اور ٹکراؤ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دینا۔ غیر مسلم اقوام کی طرف سے ڈالی جانے والی تکلیفوں کو یک طرفہ طور پر پی جانا۔ اگر مسلمان اس قربانی کا حوصلہ کر سکیں تو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت کی موجودہ فضا اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ اس کے بعد جو چیز بچے گی وہ وہی دوسری چیز ہے جس کو ہم نے اسلامی دعوت کے جدید امکانات کہا ہے۔ نفرت کی فضا ختم ہوتے ہی نیچے کی تہہ میں چھپے ہوئے امکانات سامنے آجائیں گے۔

جس دن ایسا ہوگا اسی دن اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے گی ، ایک ایسی تاریخ جس کے لیے خدا نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ اختتام تک پہنچنے سے پہلے کہیں نہ ٹھہرے۔

نیا دور

صلح حدیبیہ دس سال کا نا جنگ معاہدہ تھا۔ صلح حدیبیہ کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار الگ رکھ دی اور اسلام کی فکری طاقت کو استعمال کیا۔ یہ انسانی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا کہ مقابلہ کو جنگ کے میدان سے نکال کر فکر کے میدان میں لایا گیا۔ اس وقت تک انسان صرف یہ جانتا تھا کہ دو مختلف گروہوں کے درمیان فیصلہ جنگ کے میدان میں ہوتا ہے۔ مگر خدا کے رسول نے اپنے عمل سے دکھایا کہ یہ فیصلہ فکر و نظریہ کے میدان میں بھی ہوتا ہے۔ اور فکر و نظریہ کے میدان میں ہونے والا فیصلہ جنگ کے میدان میں ہونے والے فیصلے سے زیادہ کامیاب ہے۔

صلح حدیبیہ محض ایک وقتی تدبیر نہ تھی جو قدیم زمانہ کے قبیلہ قریش سے نمٹنے کے لیے اختیار کی گئی۔ اس کی حیثیت اس سے زیادہ ہے۔ یہ انسانی تاریخ میں ایک سیاہ دروازہ کھولنا تھا۔ اس کے ذریعہ سے آپ نے ایک طرف اسلام کی ناقابل تسخیر فکری قوت کا مظاہرہ فرمایا۔ اور دوسری طرف تاریخ میں پہلی بار ایک نئے دور کا آغاز کیا جس کی تکمیل موجودہ زمانہ میں پہنچکر ہوئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues

Printed page