دہلی یکم ستمبر ۱۹۸۵
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۲
تمام قدیم زمانوں میں یہ ایک جائز بات سمجھی جاتی تھی کہ ایک حکمراں اپنی مسلح فوجوں کو لے کر دوسرے ملک میں داخل ہو جائے اور قتل و خوں ریزی کے ذریعہ اس پر قبضہ کرلے۔ یہ تمام تر ایک جدیدظاہر ہ ہے کہ اس قسم کی جارحیت کو بین اقوامی جرم سمجھا جاتا ہے ۔ اور بین اقوامی مسائل کو گفت وشنید کے ذریعہ ہے اس کام کی بادیفیت ہے وہ مبح جا رہا ہے ۔ اس میں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
میں اختلاف مہم ہو گیا ہوتا ہے کہ پاکستان کا نظام سیاست پتا پر آراء کا اظہار پشیمانی بین اقوامی زندگی میں ہتھیار کے بجائے نظریے کا استعمال تمام تر پیغمبر اسلام کی دین ہے۔ موجودہ زمانہ کا یہ عالمی مزاج در حقیقت اس انقلابی لہر کی تکمیل ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں چودہ سو سال پہلے شروع کی گئی تھی۔ پیغمبر اسلام نے سب سے پہلے قوموں کے درمیان یہ سوچ پیدا کی۔ پھر آپ نے اس اصول پر عمل کر کے اس کو ایک زندہ واقعہ کی حیثیت دے دی۔ اس کے بعد یہ طرز فکر تاریخی لہر میں شامل ہو گیا ۔ وہ برابر بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ موجودہ فکری انقلاب کی صورت میں اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ تاریخ کا یہ انقلاب عین ہمارے حق میں ہے ۔ " حدیبیہ " کے وقت جو موقع وقتی صلح کے ذریعہ حاصل کیا گیا تھا ، اب اس نے ایک پورے دور کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس انقلاب نے ہمارے لیے ہمیشہ سے زیادہ وسیع پیمانہ پر یہ امکان کھول دیا ہے کہ ہم ایک موافق فضا میں اسلام کی اشاعت کا کام کریں اور اسلام کی فکری طاقت کو استعمال کر کے دوبارہ اس کو دنیا کا غالب دین انک طاق مقام آذرین اور اسلام کی روح و تمدن کا نشان رکھ بنادیں ۔
دہلی یکم ستمبر ۱۹۸۵
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues