سچائی کو پانے والا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۳
سچائی کو پانے والا
معانی کی دنیا خدا کے جلووں کی دنیا ہے۔ کون ہے جو خدا کے جلووں کو انسانی زبان میں بیان کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم جب کسی معنی کو بیان کرتے ہیں تو ہم اس کو بیان نہیں کرتے بلکہ اس کو کچھ گھٹا دیتے ہیں۔ اس کے اوپر ایک لفظی پردہ ڈال دیتے ہیں۔ کسی با معنی حقیقت کو کوئی شخص محض اس کے الفاظ سے سمجھ نہیں سکتا۔ ایک اندھا شخص کسی کے بتانے سے یہ نہیں جان سکتا کہ پھول کیا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جس نے معنوی حقائق کو دیکھنے کی صلاحیت اپنے اندر نہ جگائی ہو وہ معنوی حقائق سے باخبر نہیں ہو سکتا۔ خواہ ڈکشنری کے تمام الفاظ اس کے سامنے دہرا دیئے جائیں خواہ قاموس المعانی کی تمام جلدوں کو اسے پڑھا دیا جائے۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ مگر اس کتاب سے ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اپنے اندر تقویٰ کی صفت رکھتا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی اس کو ملتی ہے جس کے دل میں سچائی کی کھٹک موجود ہو۔ جو شخص سچائی کی تلاش میں ہو، سچائی جس کی ضرورت بن گئی ہو، جو سچائی کو پانے کے لئے اتنا بے قرار ہو کہ وہ اسی کی یاد لے کر سوتا ہو اور اسی کی یاد لے کر جاگتا ہو، جو آدمی اس طرح سچائی کا طالب ہو قرآن اسی کے لئے ہدایت بنتا ہے۔
ایسا شخص گویا ہدایت کا نصف راستہ طے کر چکا ہے۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے عہد الست کی خدائی آوازوں کو سن رہا ہے۔ وہ اپنے اندر اس صلاحیت کو بیدار کر چکا ہے جو معانی زبان کو سمجھتی ہے۔ ایسا شخص مادی دنیا سے بے ربطی کی وجہ سے عالم حقائق سے اتنا قریب آ جاتا ہے کہ وہ فرشتوں کی سرگوشیوں کو سننے لگتا ہے۔
نبوت کا علم ملنے سے پہلے یہ تمام تجربات آدمی کے اندر مبہم اور مجہول انداز میں ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جب قرآن کی آواز اس کے اندر داخل ہوتی ہے تو وہ اس کی کتاب فطرت کی تفسیر بن جاتی ہے وہ اپنے اندر چھپے ہوئے غیر ملفوظ اشارات کو ملفوظ زبان میں پالیتا ہے۔ اب قرآن اور قرآن کو پڑھنے والا دونوں ایک دوسرے کامثنی بن جاتے ہیں۔ قرآن وہ بن جاتا ہے اور وہ قرآن۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues