سچائی کو پانے والا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۷، صفحہ ۴۵
۵۔ الرسالہ انگریزی کن حلقوں میں پھیل رہا ہے اور وہ کس قسم کے تاثرات پیدا کر رہا ہے، اس کو جاننے کے لیے یہاں ایک خط (۱۴ اکتوبر، ۱۹۸۷) نقل کیا جاتا ہے: فرینک فرٹ جرمنی میں کتابوں کی ایک عالمی نمائش ۴۔ ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۷ کو ہوئی، اس موقع پر اسلامی مرکز کی انگریزی کتابیں ہندوستانی پویلین پر بطور نمائش رکھی گئیں ۔ شری ستیہ سائیں سیوا آرگنائزیشن (ریلوے کالونی کشن گنج، دہلی) کی طرف سے ۳ اکتوبر، ۱۹۸۷ کو ایک اجتماع تھا۔ ہندو عورتیں اور مرد اس میں شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز کو اس موقع پر شرکت کی دعوت دی گئی ۔ وہ اس میں شریک ہوئے اور ” اسلامی تعلیمات کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ لوگوں نے تقریر کو پسند کیا اور مزید سننے کی خواہش ظاہر کی۔
بہوجن سماج پارٹی کی طرف سے ۲۷ ستمبر ۱۹۸۷ کو کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی میں ایک سیمینار ہوا۔ اس سیمینار کا موضوع ہندوستان کی مذہبی اقلیتوں کے مسائل پر غور کرنا تھا۔ منتظمین سیمینار کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس سیمینار میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان اس ملک میں ایک قسم کا پروٹسٹنٹ گروپ بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ ان کے مسئلہ کا حل نہیں ۔ ان کے مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ وہ اس ملک میں کرمی ایٹو گروپ بنیں۔ یہی ان کے مسئلہ کا واحد حل ہے ۔
گول مارکیٹ (نئی دہلی) میں ۲ اکتوبر ۱۹۸۷ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1987 All issues