مصنوعی مسائل
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴
مصنوعی مسائل
کیلی فورنیا کے ایک کرو دی پتی رابرٹ گراہم (Dr Robert Graham) نے ایک انوکھا بینک قائم کیا۔ اس کا نام انھوں نے نوبیل اسپرم بینک (Nobel Spermibank) رکھا۔ اس "بینک" میں نوبیل انعام یافتہ افراد کے مادہ منویہ کو حاصل کر کے محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے عورتوں کو بار آور کیا جائے اور زیادہ اعلیٰ ذہانت (Above-average intelligence) والے بچے پیدا کیے جائیں۔ بانی کا کہنا تھا کہ یہ بینک اس نے نااہل شوہروں (Infertile husbands) کے لیے قائم کیا ہے۔ تاہم جدید خواتین کی اباحیت پسندی اس پابندی کو ختم کر رہی ہے۔ بہت سی خواتین نکاح کے بغیر بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں ، نیز وہ چاہتی ہیں کہ ان کی اولاد اعلیٰ استعداد کی مالک ہو، ایسی خواتین آزادانہ طور پر اس بینک کی خدمات حاصل کر رہی ہیں۔ انھیں خواتین میں سے ایک کیلی فورنیا کی ڈاکٹر آفتن بلیک (Afton Blake) ہے۔ اس کی عمر اس وقت ۴۴ سال ہے۔ اس نے مذکورہ نوبیل اسپرم بینک سے رابطہ قائم کیا۔ وہ اپنے لیے جس قسم کی اولاد چاہتی تھی ، اس کے مطابق اسے مشورہ دیا گیا کہ وہ نمبر ۲۸ (28 Number) کا مادہ حاصل کرے۔ واضح ہو کہ اس بنک میں جن لوگوں کے مادہ منویہ جمع کیے گئے ہیں ان کو ان کے نام سے پکارا نہیں جاتا۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک کو ایک نمبر دیا گیا ہے اور اسی خاص نمبر سے اس کو یاد کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر بلیک " نمبر ۲۸ " کے مادہ کو اپنے رحم میں داخل کر کے حاملہ ہوئی۔ مقرر وقت پر اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس لڑکے کا نام اس نے ڈورون (Doron) رکھا۔ یہ یونانی لفظ ہے جس کے معنی تحفہ یا عطیہ کے ہوتے ہیں۔ یہ بچہ اب چار سال سے زیادہ کا ہو چکا ہے اور وہ اب اسکول جانے لگا ہے۔ اس کی تصویر ہندوستان ٹائمس ، ستمبر ۱۹۸۶ (میگزین صفحه۴ پر شائع ہوئی ہے۔ ڈیلی ٹیلی گراف کا نمائندہ آئن بروڈی (Ian Brodie) مذکورہ خاتون سے اس کے لاس اینجلس (کیلی فورنیا) کے مکان پر ملا۔ اس کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر بلیک کی خوشیاں دھیرے دھیرے غم میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ باپ کے بغیر بچہ کی ولادت اس کے لیے طرح طرح
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues