وحی والہام
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۶
وحی والہام
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ نے شہد کی مکھی کو وحی کی (وَاَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں میں بعض ایسی نشانیاں ہیں جو وحی سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ان کا مطالعہ وحی الہی کے معاملہ کو انسان کے لیے قابل فہم بنا دیتا ہے۔
وحی کے عقیدہ کا مطلب خارجی ذریعہ علم سے رہنمائی کا آنا ہے۔ جانوروں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کے درمیان اس قسم کا ذریعہ علم واضح طور پر موجود ہے ۔ جانوروں میں ایسی صفات پائی جاتی ہیں جن کی توجیہہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کی جا سکتی کہ یہ مانا جائے کہ ان کو اپنے باہر سے ہدایات مل رہی ہیں ۔ انہیں صفات میں سے ایک صفت جانوروں کی مہاجرت (Migration) کا معاملہ ہے ۔ خاص طور پر مچھلیوں اور چڑیوں کی مہاجرت اپنے اندر ایسی نشانیاں رکھتی ہے جس کے بعد وحی والہام کے معاملہ کو سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں رہتا۔
یہاں ہم مہاجر چڑیوں (Migratory birds) کا حوالہ دیں گے۔ بہت سی چڑیاں ہیں جو خوراک کی تلاش میں یا موسم کی تبدیلی کی بنا پر ایسا کرتی ہیں کہ خاص خاص وقتوں میں اپنے اصل مقام سے ہجرت کر کے دوسرے موزوں تر مقامات پر جاتی ہیں اور پھر ایک خاص مدت کے بعد دوبارہ اپنے سابق مقام پر واپس آ جاتی ہیں ۔
ان پروازوں کے بارہ میں موجودہ زمانہ میں نہایت وسیع مشاہدات کیے گیے ہیں۔ ان سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پروازیں بے مقصد اڑان کی حیثیت نہیں رکھتیں ۔ بلکہ ایک ماہر طیور کے الفاظ میں ان کی حیثیت نہایت اعلیٰ درجہ کے جغرافی بند بست (Geographical arrangement) کی ہے ۔ وہ اتنا ہی بامعنی ہیں جتنا کسی انسان کا سوچا سمجھا ہوا سفر با معنی ہوتا ہے۔ نیز مشاہدات کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ پروازیں انتہائی صحیح طور پر مقرر راستوں (Well-defined flyways) پر انجام پاتی ہیں ۔
چڑیوں کا یہ سفر نہایت عجیب ہے۔ انسان کے لیے صحیح طور پر ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ اس نے راستہ اور منزل کی پوری معلومات خارج
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues