Sicily for a time acknowledged the Fatimid
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳
ہوٹل والوں نے بتایا کہ یہاں سے کئی آدمی رسیو کرنے کے لیے جاچکے ہیں۔ آپ دوبارہ اٹھیں ایئر پورٹ پر تلاش کریں۔ اس کے بعد مزید چل کر دیکھا تو وہ وہاں کارڈلیے ہوئے میرے انتظار میں کھڑے تھے۔
قصہ یہ تھا کہ وہ لوگ دوسرے گیٹ پر تھے اور میں ایک اور گیٹ سے باہر آیا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک مقام پر اپنے مطلوب کو نہ پا کر مایوس ہوجاتا ہے، حالاں کہ اگر وہ تلاش کرے تو وہ پائے گا کہ اس کا مطلوب دوسرے مقام پر خود اس کے انتظار میں کھڑا ہوا ہے۔ جنیوا میں میرا قیام انٹرکانٹیننٹل ہوٹل میں تھا۔ میرے کمرہ کا نمبر ۵۲۱ تھا۔ ہوٹل میں جو پبلسٹی لٹریچر رکھا ہوا تھا، اس میں کافی لٹریچر عربی میں بھی نظرآیا ’’سویسرا‘‘ نام کی ایک مکمل گائیڈ بک عربی زبان میں موجود تھی۔ اس کے علاوہ مختلف کا غذات پر عربی زبان میں اندراجات نظر آئے ۔ مثلاً ایک دو ورقہ میں ہوٹل کا تعارف کرایا گیا تھا۔ اس میں لکھا ہوا تھا: اکثر من 80 فندق فخم حول العالم (ساری دنیا میں ہمارے ۸۰ سے زیادہ بڑے ہوٹل ہیں) کمرہ کے باتھ روم میں پلاسٹک کی ایک تھیلی میں نہانے کی ٹوپی (Shower cap) رکھی ہوئی تھی۔ اس کے اوپر مختلف زبانوں میں اندراجات تھے ، اسی کے ساتھ اس پر عربی میں غطاء للرأس بھی لکھا ہوا تھا۔ کمرہ میں لمبے شیشے کی کھڑکی پر عربی میں لکھا ہوا تھا : يرجى قفل النافذة عند تشغيل تكييف الهواء مع الشكر براہ کرم ایئرکنڈیشنر چلانے کے وقت کھڑکی کو بند رکھیں۔ جنیوا میں عرب لوگ کافی آتے ہیں۔ یہ عربیت اسی کی بنا پر ہے ۔
ہوٹل کے کمرہ میں ایک بہت عمدہ چھپا ہوا جر نل تھا۔ جس میں تصویروں کے ذریعہ دکھایا گیا تھا کہ اس ہوٹل کو کس قسم کے لوگوں کی میزبانی کا موقع ملتا رہتا ہے۔ ان شخصیتوں میں وزیر اعظم ہندوستان راجیو گاندھی، صدر انڈونیشیا جنرل سو ہار تو ، سلطان بن عبد العزيز (سعودی عرب) اور دوسری بہت سی ممتاز شخصیتوں کے نام شامل تھے۔
یہ ہوٹل مختلف طریقوں سے اپنے اعلیٰ میزبانوں کو متاثر کرتا ہے۔ مثلاً اس کے ایک با تصویر نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ جرمنی کا ایک ممتاز شخص (Udo Lattek) اپنی پارٹی کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues