Sicily for a time acknowledged the Fatimid
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۵
اس نے مذکورہ نوجوان کے والد کو اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی مرمت کے لیے دی۔ نوجوان نے منت سماجت کر کے یہ گھڑی اس سے مانگ لی۔ اس چھوٹی سی مشین سے اس کو اتنی دلچسپی ہوئی کہ وہ ایسی ہی ایک نئی مشین بنانے میں لگ گیا۔ ۱۸ مہینے کی لگاتار محنت کے بعد اس نے ویسی ہی ایک نئی گھڑی بنا لی۔ اس طرح ۱۷۰۵ میں باقاعدہ طور پر سوئزرلینڈ میں گھڑی کی صنعت قائم ہوئی۔ یعنی عین اس وقت جب کہ ہندوستان میں اور نگ زیب عالمگیر کی حکومت (۱۷۰۷ - ۱۶۵۸) کا آخری زمانہ تھا ۔ مذکورہ نوجوان اگر چہ ”ترقی یافتہ سوئزرلینڈ“ کو دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہا، مگر ایک شخص کی قربانی اور ہوش مندی نے پوری قوم کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔
اب اس معاملہ میں اس کے برعکس مثال لیجیے۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب تلاش ہند (Discovery of India) میں لکھا ہے کہ ہندوستان کے مغل امراء بہ کثرت گھڑیاں استعمال کرتے تھے ۔ پرتگالی، اور بعد میں انگریز ہندوستان میں یہ گھڑیاں لاتے تھے۔ گھڑیوں کا استعمال مغل امراءکے تکلفات میں شامل تھا۔ تاہم اس وقت کے ہندوستان میں نہ کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کمانی کی گھڑیاں (Spring clocks) جو یورپی تاجر ہندوستان میں لا کر فروخت کرتے ہیں، وہ کیسے بنتی ہیں، نہ ایسی گھڑیاں کبھی یہاں بنائی گئیں۔ مغل دور کے ہندوستان میں میکانکی رجحان (Mechanical bent) کی یہ کمی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ (صفحہ ۷۵، ۷۴)
سوئزرلینڈ ارباب سرمایہ کی پناہ گاہ ہے ۔ سوئزرلینڈ کے بینکوں میں کھاتہ کھولنے کے لیے وہ پابندیاں نہیں ہیں جو دوسرے ملکوں میں ہوتی ہیں۔ یہاں ہر آدمی کھاتہ کھول سکتا ہے، خواہ وہ سوئزرلینڈ کا شہری ہو یا نہ ہو۔ مزید یہ کہ یہاں خفیہ کھاتے کھولنے کے نہایت وسیع امکانات ہیں۔ یہاں کے بینکوں میں ایسے کھاتے کھولنے کی سہولت ہے جن سے مطلوبہ رقم صرف خفیہ نمبر یا لفظ بنا کر نکالی جاسکتی ہے ۔ ان خفیہ کھاتوں کا علم بینک کے اسٹاف کے دو افراد کو ہوتا ہے۔ دو افراد اس لیے تاکہ اگر ایک شخص موجود نہ ہو تو دوسرا شخص فوراً اس کی تعمیل کر سکے ۔ اس نظام نے دنیا بھر کے ارباب دولت (بادشاہوں، سیاسی لیڈروں، صنعت کاروں وغیره) کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ سوئزرلینڈ کے بینکوں میں بھاری رقم کے خفیہ کھاتے کھول سکیں ۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ سوئزرلینڈ کے بینکوں میں جمع شدہ ہندوستانی باشندوں کی رقوم تقریباً
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues