A scandal involving arms for Iran
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۷
اتحاد نہیں ہو سکتا ، جب کہ وہ خود صلح کی اور اتحاد کی پیش کش کر رہا ہو۔ کیسا عجیب ہے وہ اسلام جو موجودہ زمانہ کے مجاہدین اسلام کے حصہ میں آیا ہے ۔
۱۹۸۲ میں سوئزرلینڈ کے ۷، ۵ بینکوں میں جو رقم جمع تھی ، وہ ہندوستانی سکہ میں 305,000 کروڑ روپے ہوتی ہے (ریڈرز ڈائجسٹ ، فروری ۱۹۸۴)
سوئزرلینڈ کا ایک طبقہ بینکوں میں خفیہ کھاتے رکھنے کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اس سے ظالم حکمراں اور غلط ذرائع سے دولت حاصل کرنے والے دوسرے لوگ اپنی دولت کو چھپا کر دوبارہ اس کو باعزت طور پر استعمال کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔ ایک سوشل ڈیمو کریٹ نے بینک راز داری کو ختم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ کالا دھن ہمارے بینکوں کے علی بابا کے کھوہ میں غائب ہو جاتا ہے اور پھر وہ جائز دولت بن کر باہر آتا ہے تاکہ اس کو حسب منشاء استعمال کیا جا سکے : Black money disappears into the Ali Baba caves of our banks and emerges respectably white and ready for investment. سوئزر لینڈ یورپ کا ایک نسبتاً چھوٹا ملک ہے ۔ اس کو ساحل سمندر بھی حاصل نہیں ۔ مگر سوئزرلینڈ کو اس کی کیوں نے عمل کا مزید حوصلہ دیا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں ، خام مواد سے محرومی نے سوئزرلینڈ کو مایوس نہیں کیا۔ اس نے اپنی محنت سے اپنے یہاں نہایت اعلیٰ اور معیاری صنعتی بنیاد تعمیر کر لی۔ حتیٰ کہ وہ یورپ میں فی کس سب سے زیادہ آمدنی کا ملک بن گیا : Undismayed by a lack of raw material, the Swiss have constructed a high-quality, high-technology industrial base for Europe's highest per capita income. سوئزرلینڈ میں چار زبانیں (جرمن، فرنچ، اٹالین، رومانس) رائج ہیں ۔ یہاں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد نصف ملین ہے (کل تعداد کا ۱۷ فی صد) سوئزرلینڈ کی کل آبادی تقریباً ۳۴ لاکھ ۵۰ ہزار ہے ۔ صدفی صد لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔
جنیوا زیادہ بڑا شہر نہیں ۔ آپ اگر چاہیں تو پیدل چل کر اس کے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچ سکتے ہیں ۔ بظاہر دیکھنے میں بھی وہ بہت زیادہ عظیم نظر نہیں آتا۔ تاہم اس کی تاریخ نے اس کو عظیم بنا دیا ہے ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اکثر بین الاقوامی اہمیت کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues