Al-Risala · February 1987 · page 38

A scandal involving arms for Iran

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۸

واقعات جنیوا میں پیش آئے ۔

جنیوا، سرینگر کی مانند پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع ہموار میدان میں آباد ہے ۔ وہ اپنی بعض خصوصیات کی وجہ سے یورپ کا ایک ممتاز شہر سمجھا جاتا ہے۔ اس کا رقبہ ۲۱۰ مربع میل (۲۸۰ کلومیٹر) ہے ۔ اس کی آبادی تقریباً ۳۲۰ ہزار ہے۔ جنیوا کی معاشی اور تہذیبی اہمیت اپنے رقبہ سے بہت زیادہ ہے ۔ سولھویں صدی تک جنیوا تنزّل کا شکار رہا ۔ اس کے بعد ۱۵۳۰ء سے اٹلی، جرمنی ، فرانس وغیرہ ملکوں کے نکلے ہوئے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ۔ اس سے جنیوا کو نیا خون (New blood) ملا اور اس کی ترقیاں شروع ہوئیں ۔ ان لوگوں نے غیر معمولی محنت سے یہاں گھڑی سازی ، پرنٹنگ اور دوسرے صنعتی میدانوں میں ملک کو آگے بڑھایا ۔ ہر قوم کی ترقی کے لیے ” نیا خون “ درکار ہوتا ہے ، خواہ یہ نیا خون اندر سے حاصل ہو یا باہر سے ۔ عیسائیت میں ریفارمیشن کی تحریک نے جنیوا میں اتنی مقبولیت حاصل کی کہ اس شہر کو پروٹسٹنٹ روم (Protestant Rome) کہا جانے لگا۔ جنیوا کی مقامی آبادی میں پروٹسٹنٹ لوگ کسی قدر زیادہ ہیں ۔ مگر مجموعی آبادی میں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک تقریباً نصف نصف ہیں ۔ جنیوا میں میں نے بعض پروٹسٹنٹ چرچ اندر سے دیکھے ۔ وہ کیتھولک چرچ کے برعکس ، بالکل سادہ تھے۔ جیسے مسلمانوں کی مسجدیں سادہ ہوتی ہیں ۔

جنیوا کو ایک بین اقوامی شہر (International city) کہا جاتا ہے۔ یہاں ڈیڑھ سو سے زیادہ بین الاقوامی اداروں کے صدر دفتر ہیں ۔ اور اکثر بین الاقوامی اداروں کی شاخیں موجود ہیں۔ جنیوا کو بین اقوامی حیثیت دینے میں اس کا بھی دخل ہے کہ یہاں تقریباً ماہ ۳۱ فی صد بیرونی افراد آباد ہیں ۔ اس واقعہ نے جنیوا کو ایک قسم کی عالمی حیثیت دیدی ہے ۔ فرانس کے سیاست داں ٹالی رینڈ (Talleyrand) نے کہا تھا کہ دنیا میں پانچ براعظم ہیں اور پھر جنیوا ہے ۔

There are five continents, and then there is Geneva. جنیوا میں دورِ جدید کے بعض انتہائی بڑے مفکر پیدا ہوئے ۔ مثلاً روسو اور والٹیئر ۔ اس بنا پر جنیوا کو یہ حیثیت بھی حاصل ہوئی کہ وہ اہلِ علم کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔

دورِ اول میں مسلمان جب اسپین کے راستہ سے یورپ میں داخل ہوئے تو وہ پیش قدمی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page