Al-Risala · February 1987 · page 39

A scandal involving arms for Iran

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹

کرتے ہوئے سوئزرلینڈ تک بہو پہنچ گئے ۔ اسپین اور سسلی اور جنوبی اٹلی اور جنوبی فرانس میں انھوں نے باقاعدہ حکومتیں قائم کرلیں ۔ تاہم سوئزرلینڈ میں اس قسم کی کوئی حکومت قائم نہ ہوسکی ۔ سوئزرلینڈ میں عرب مسلمانوں کے داخلہ کے بارہ میں قدیم عربی کتابوں میں بہت کم معلومات ملتی ہیں۔ اس سلسلہ میں زیادہ معلومات ان کتابوں میں ہیں جو عیسائی حضرات نے جرمن اور فرانسیسی زبانوں میں لکھی ہیں۔ امیر شکیب ارسلان (۱۹۲۶ - ۱۸۶۹) جرمن اور فرانسیسی زبان جانتے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا۔ نیز انھوں نے ان یورپی علاقوں کے سفر کیے۔ اس کے بعد انھوں نے اس موضوع پر تین سو صفحات کی ایک کتاب (۱۳۵۲ ھ) عربی زبان میں لکھی ہے جس کا نام یہ ہے :

تاريخ غزوات العرب فى فرنسا وسويسرا وايطاليا وجزائر البحر المتوسط امیر شکیب ارسلان کی اس کتاب میں دوسری معلومات کے علاوہ ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ انھوں نے اس میں ایک جرمن کتاب کا خلاصہ شامل کر دیا ہے جو خاص اسی موضوع پر لکھی گئی تھی ۔ اس کتاب کا جرمن نام یہ ہے :

Der einfall der Sarazenenen in die Schweiz, Von dr Ferdinand Keller سوئس انسائیکلوپیڈیا (Dictionaire historique et biographique de la Suisse) میں سراسین (Saracen) کے باب کے تحت بھی عربوں کے سوئزرلینڈ میں داخلہ کی بابت _ کافی معلومات درج ہیں ۔

امیر شکیب ارسلان نے اپنی تحقیق کے دوران خود سوئزرلینڈ کا سفر کیا تھا۔ اس سلسلہ میں وہ سوئزرلینڈ کے شہر سیون (Sion) گیے۔ وہاں سے دریافت کرتے ہوئے وہ ایک گاؤں میں بہو پہنچے جو پہاڑوں کے درمیان واقع ہے ۔ یہاں ایک بوڑھے واقف کار شخص نے انہیں بتایا کہ ہم سنتے آئے ہیں کہ اس گاؤں کے تمام باشندے یاکم ازکم ان میں سے کچھ عرب نسل سے ہیں (ان اهالي هذه القرية او بعضهم على الاقل هم من اصل عربی ، صفحه ۲۷۹ اس نے مزید بتایا کہ اس طرح کی اور بستیاں بھی سوئزرلینڈ میں پائی جاتی ہیں۔ سوئزرلینڈ کے بعض مقامات کے نام اب بھی عربی انداز

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page