Because, unlike me, Rolex never needs a rest.
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۴۱
پیش قدمی کرتے ہوئے روم کی دیواروں تک پہنچ گئے۔ اس زمانہ میں فرانس کا جنوبی حصہ اور اسی کے ساتھ سوئٹزرلینڈ کا قابل لحاظ حصہ بھی مسلم سلطنت میں شامل کر لیا گیا : The south of France was annexed as also a considerable part of Switzerland (p. 246). مگر سوئٹزرلینڈ کے بارہ میں یہ بات تاریخ سے ثابت نہیں ہوتی ۔
دسمبر ۱۹۳۱ میں ایک سفر کے دوران مہاتما گاندھی جنیوا آئے تھے۔ انھوں نے وکٹری ہال (Victory Hall) میں ایک تقریر کی ۔ اس کا موضوع تھا : سچائی خدا ہے (Truth is God) اس کا ذکر کرتے ہوئے لوئی فشر نے لکھا ہے کہ لانہہب قسم کے لوگ گھنٹوں تک ان پر سوالات کی بوچھاڑ کرتے رہے۔ مگر مہاتما گاندھی نے کامل سکون کے ساتھ ان کا جواب دیا ، ان کے چہرہ کی ایک رگ بھی حرکت میں نہیں آئی :
He was heckled for hours by atheists and others. He answered them in perfect calm, not a muscle of his face twitching. Louis Fisher. The Life of Mahatma Gandhi Harper Row, New York, 1983, p. 293 موجودہ زمانہ کے بے شمار مسلم لیڈروں میں سے کسی ایک کے یہاں بھی برداشت کی یہ مثال نہیں ملتی ، یہی وجہ ہے کہ کسی ایک مسلم لیڈر نے بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کی جو مہاتما گاندھی نے موجودہ زمانہ میں حاصل کی ۔
سوئٹزرلینڈ کی ایک مشہور گھڑی ہے جس کا نام رولکس (Rolex) ہے ۔ اس کا اشتہار ایک میگزین میں نظر سے گزرا ۔ اشتہار میں گھڑی کے ساتھ ایک فلم پروڈیوسر (Placido Domingo) کی تصویر بنی ہوئی تھی ۔ وہ کہہ رہا تھا کہ یہ گھڑی میرے لیے بہترین ہے ۔ کیوں کہ میرے طریقہ کے برعکس اس کو کبھی آرام کی ضرورت نہیں :
Because, unlike me, Rolex never needs a rest.
گھڑی ایک بہت چھوٹی چیز ہے ، مگر وہ ایک بہت بڑی چیز کی یاد دلاتی ہے ۔ اور وہ خدا کا عظیم الشان نظام ہے ۔ زمین ہر لمحہ گھومتی ہے ، وہ کبھی آرام نہیں کرتی ۔ اسی طرح اس دنیا کی تمام
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues