Because, unlike me, Rolex never needs a rest.
الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۴۲
چیزیں ہر آن متحرک ہیں تاکہ وہ انسان کی ضروریات پوری کریں۔ انسان جب سوتا ہے اس وقت بھی کائنات کا کارخانہ اس کے لیے چلتا رہتا ہے اور جب جاگتا ہے اس وقت بھی۔ انسان کو خبر ہو یا نہ ہو وہ اپنے آپ مسلسل حرکت میں ہے تاکہ انسان کی تمام ضرورتیں فراہم کرے ۔ کیسا عجیب ہوگا وہ خدا جس نے اس عجیب "کائناتی گھڑی" کو بنا کر کھڑا کر دیا۔
کانفرنس میں مختلف ملکوں کے تقریبا ۱۰۰ آدمی شریک ہوئے ۔ ہر مذہب کے نمائندہ نے اپنے مذہب میں مذہبی آزادی کی اہمیت بتائی۔ پھر مختلف ملکوں میں مذہبی آزادی کی عملی صورت حال پر اظہار خیال ہوا۔ اس کے بعد یورپ، ایشیاء، افریقہ، امریکہ کے الگ الگ گروپ بنائے گئے۔ ہر گروپ نے اپنے اپنے براعظم کے اعتبار سے مذہبی آزادی کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔ اس تبادلہ خیال کا خلاصہ ایک مختصر رپورٹ کی صورت میں کانفرنس کے عام اجتماع میں پیش کیا گیا۔
موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے اجتماعات اور کانفرنسوں کا زمانہ ہے۔ دنیا بھر میں ہر روز مختلف قسم کے اجتماعات ہوتے ہیں۔ ان اجتماعات میں مسلمانوں کی دینی شخصیتوں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے مگر مسلمانوں کی دینی شخصیتیں عام طور پر صرف مسلمانوں کے اجتماعات میں شرکت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ حتیٰ کہ بیرونی ملکوں میں ان کے اسفاربھی صرف وہاں کے بسنے والے مسلمانوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ راقم الحروف کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس کو مسلمانوں کے علاوہ بار بار غیر مسلم صاحبان کے اجتماعات میں شرکت اور خطاب کے مواقع ملے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ اجتماعات یہ ہیں : 1- آل مذاہب کانفرنس بگور نومبر 1959 ۲۔ وشو دھر سمین الٰہ آباد مئی 1960 ۳۔ ورلڈ فیلوشپ آف ریلیجنز نئی دہلی فروری 1965 ۴۔ انٹرنیشنل سیمینار آن ریلیجن نئی دہلی دسمبر 1973 ۵۔ مسلم کرسچین ڈائیلاگ طرابلس (لیبیا) فروری 1976 6- اسمبلی آف دی ورلڈ ریلیجنز نیو یارک (امریکہ) نومبر 1985 ۷۔ کونسل فار دی ورلڈ ریلیجنز بنگلور جون 1986 ۸۔ ورلڈ کونسل آن ریلیجس لبرٹی جینیوا (سوز لینڈ) دسمبر 1986
‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues