Al-Risala · February 1987 · page 44

Where from you get this magazine?

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۴۴

خبرنامه اسلامی مرکز ۔ ۲۷ ۱۔

الرسالہ (انگریزی) کے اجراءاور انگریزی کتب کی اشاعت سے پہلے ہمارے اور غیر اردو داں طبقہ کے درمیان ایک قسم کا مواصلاتی فصل قائم تھا ۔ اب خدا کے فضل سے وہ فصل ٹوٹ چکا ہے ۔ انگریزی الرسالہ اور انگریزی تراجم کے ذریعہ وسیع تر حلقہ میں اسلامی مرکز کا پیغام مسلسل پہنچ رہا ہے ۔ عام انگریزی دانوں کے علاوہ خواص کی طرف سے بھی اس کی اطلاعات برابر ملتی رہتی ہیں۔ حال میں ہم کو ملیشیا کے پرائم منسٹر ڈاکٹر مہاتیر بن محمد (Dr. Mahathir Bin Mohammad) کا خط مورخہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۶ ملا ہے انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے لکھا ہے :

I scanned through the book 'Mohammad: The Prophet of Revolution' and find it very lucid and interesting. My congratulations to you on your contribution to Islamic thought. الرسالہ کو اللہ تعالیٰ ایسے عجیب طریقوں سے پھیلا رہے ہیں کہ پیشگی طور پر اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر ایک صاحب ظہران (سعودی عرب) سے اپنے خط مورخہ دسمبر ۱۹۸۶ میں لکھتے ہیں کہ میرا تاثر یہ ہے کہ الرسالہ کا اندازِ فطرت کے عین مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کوئی بھی اس کو ایک مرتبہ دیکھ لیتا ہے، متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ دو دن پہلے کی بات ہے، میں پوسٹ بکس سے الرسالہ انگریزی لیے چلا آ رہا تھا۔ لفٹ میں اس کو دیکھ رہا تھا کہ ایک صاحب کی نظر اس کے پہلے صفحہ پر پڑی جس میں لکھا ہوا تھا : What is sympathy. Sympathy is your pain in my heart. ان صاحب نے اس کو دیکھ کر فوراً کہا :

Where from you get this magazine?

میں نے یہ سن کر فوراً انھیں وہ رسالہ دے دیا اور طریقہ بتا دیا کہ آپ اس طرح اس کو انڈیا سے منگا سکتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ الرسالہ ضمیر میں ایک قسم کا بھونچال مچا دیتا ہے اور آدمی اس کی ہر تحریر کا تقابل اپنے آپ سے کرنے لگتا ہے۔ میرے لیے الرسالہ بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔ میرے سوچنے کے انداز کا رُخ بدل چکا ہے۔ (محمد مختار)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page