Al-Risala · February 1987 · page 45

Where from you get this magazine?

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۴۵

۳- اسلامی مرکز کا مشن اللہ کے فضل سے دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ ہر طبقہ کے لوگ مرکز کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء کو کناڈا کے ایک پروفیسر (Dr M. Darrol Bryant) اسلامی مرکز میں آئے اور کئی گھنٹے تک صدر اسلامی مرکز سے تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات اور الرسالہ (انگریزی) کے بارہ میں غیر معمولی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ۴- الرسالہ اپنے قارئین میں کس قسم کا ذہن بنا رہا ہے، اس کا اندازہ مختلف طریقوں سے ہوتا رہتا ہے۔ ایک صاحب اپنے خط (۹ دسمبر ۱۹۸۶ء) میں لکھتے ہیں کہ حسن پور میں بہت سے لوگ الرسالہ کی آمد کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔ اور میرے بہت سے دوست اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز فرمائے۔ آپ نے ہمیں اسلام سے متعارف کیا ہے۔ ہمیں محبت کرنا سکھایا ہے۔ الرسالہ کا پڑھنے والا کوئی بھی کسی سے نفرت نہیں کرتا۔ یہ آپ ہی کی دین ہے۔

۵- ۵۔ نانڈیر سے مولانا عبد التمیر صاحب لکھتے ہیں کہ یہاں قارئین الرسالہ کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ۳۰ نومبر ۱۹۸۶ء کو قارئین الرسالہ کا ایک اجتماع ہوا۔ اس اجتماع کا عنوان تھا، موجودہ دور میں الرسالہ کی اہمیت و افادیت۔ نانڈیر کے علاوہ دوسرے قریبی مقامات کے لوگ بھی اس میں شریک ہوئے۔ یہ اجتماع توقع سے زیادہ کامیاب رہا۔ ہم نے محسوس کیا کہ کم از کم فکری اور نظریاتی طور پر بہت سے لوگ بلکہ بہت سے علماء اس تحریک سے متفق ہو رہے ہیں ۔

۶- الرسالہ (نومبر ۱۹۸۶ء) میں ”ایک تقاضا“ کے عنوان کے تحت ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ آج یہ ضرورت ہے کہ اسلام کے شرعی قانون کو وقت کے علمی اور عقلی معیار پر مدلل کر کے پیش کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں قارئین الرسالہ کی طرف سے متعدد خطوط موصول ہوئے ہیں کہ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے اسلامی مرکز نے کیا کیا ہے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ صدر اسلامی مرکز نے اس سلسلہ میں کافی تحقیق اور جدوجہد کے بعد خاص اس موضوع پر ایک کتاب تیار کی ہے، جو ”خاتونِ اسلام“ کے نام سے چھپ گئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page