Al-Risala · March 1988 · page 20

Vijai Lakshmi Pandit, The Scope of Happiness

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰

کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے طبعی تقاضوں کے جوش میں وہ اس دوسرے پہلو کو بھول جاتا ہے۔

جہاز میں مختلف اخباروں کے ساتھ ہندی روزنامہ نو بھارت ٹائمس (۵ نومبر، ۱۹۸۱) بھی تھا۔ میں نے اس کو کھولا تو درمیان کے صفحہ پر ایک مضمون تھا جس کا عنوان حسب ذیل الفاظ میں قائم کیا گیا تھا: ’’پنجاب پر ایک آشا وادی نظر‘‘ ایڈیٹوریل کے عنوانات یہ تھے : واپسی لمبی ہوگی، عام آدمی کو انصاف۔ آجکل ہندی اخبارات میں جو زبان ہوتی ہے وہ سادہ اردو ہوتی ہے۔ زیادہ بڑا فرق رسم الخط کا ہے۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ ہندوستان میں ’’اردو دانوں‘‘ کے لئے کبھی وہ چیز پیدا ہونے والی نہیں جس کو لینگویج گیپ کہا جاتا ہے۔ یعنی زبان کی دوری۔ اصل فرق رسم الخط کا ہوگا۔ اور وہ کوئی زیادہ بڑا فرق نہیں۔

راقم الحروف نے ہندی صرف سات دن پڑھی ہے ، روزانہ ایک گھنٹہ کی رفتار سے۔ اعظم گڑھ کے زمانہ قیام میں ایک کائستہ بھولیشور لال نے ایک ہفتہ ہمارے گھر پر آکر ہندی زبان پڑھائی تھی۔ اس سات گھنٹہ کی تعلیم کا یہ نتیجہ ہے کہ میں ہندی کے بڑے حروف (عنوان، پوسٹر، نام) با آسانی پڑھ لیتا ہوں ۔ اردو داں لوگ اگر صرف ہندی رسم الخط سیکھ لیں تو وہ کبھی ہندی علاقہ میں اجنبی نہیں ہوں گے۔

انڈین ایئر لائنز کے میگزین سواگت (دسمبر، ۱۹۸۱) میں ایک مضمون لکا دیپ کے بارہ میں تھا۔ لکا دیپ جغرافی اعتبار سے بالکل مالدیپ کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر چہ وہ ہندوستانی ایڈ منسٹریشن کے تحت ہے۔ یہاں کے ایک حصہ میں مالدیپی زبان بولی جاتی ہے۔ آبادی چالیس ہزار ہے جو سب کی سب مسلمان ہے۔ ۳۶ جزائر کا یہ مجموعہ صرف ۳۲ مربع کلو میٹر رقبہ رکھتا ہے۔ مضمون نگار مسٹر پی کے۔ ڈے مالدیپ گئے۔ وہاں سمندر کے کنارے کے خوبصورت سیپ انھیں بہت پسند آئے اور انھوں نے بہت سے سیپ اپنے بیگ میں جمع کرلئے۔ وہ لکھتے ہیں: I managed to collect a bagful of sea shells of various shapes and hues. However, many of these I had to throw back as soon as it was discovered that inside these were nestling live hermit crabs!

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page