Al-Risala · March 1988 · page 26

A taste of paradise

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۲۶

ہوئے ۔ ۱۲ ویں صدی عیسوی میں ان لوگوں ۔ اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیا ۔ جناب ابراہیم شہاب (اسپیکر ) نے مالد یپ میں اسلام کے آغاز کی تاریخ کسی قدر مختلف انداز میں بتائی ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے یہاں ایک راجہ شری بھونا دیت تھے ۔ ان کے زمانہ میں مغرب (افریقہ) سے ایک " ولی " ابو البرکات یوسف البربری یہاں آئے۔ ۵۴۸ھ میں ان کے ہاتھ پر راجہ مسلمان ہو گیا۔ اور اپنا نام محمد بن عبد اللہ رکھا۔ اس کے بعد تھوڑی مدت میں مالدیپ کے تمام باشندے مسلمان ہو گئے ۔

جناب ابراہیم شہاب نے ایک اور عجیب بات یہ بتائی کہ سابق سلطان کا خاندان ان مالدیپ میں نئے حالات سے مکمل موافقت کر کے رہتا ہے۔ دوسرے باشندوں کی طرح اس کے افراد یا سس میں ہیں یا تجارت میں۔ کسی شاہی خاندان کے لئے بدلے ہوئے حالات سے مطابقت کی یہ انو کھی مثال ہے جو غالباً یہاں کے سادہ فطری مزاج کی دین ہے۔

مالدیپ جیسے چھوٹے ممالک قدیم زمانہ میں ہمیشہ خطرہ کی حالت میں رہتے تھے۔ کسی بھی صبح وشام کوئی بڑی طاقت اگر ان پر قبضہ کر سکتی تھی۔ مثلاً پر تگالی 1558 میں آکر مالدیپ پر قابض ہو گئے۔ ان کا قبضہ ۱۵۷۳ تک جاری رہا۔ سترہویں صدی عیسوی میں وہ ڈچ حکمرانوں کے ماتحت رہا۔ ۱۸۸۷ سے وہ برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد نو آبادیاتی نظام کمزور رو ہوا تو ۱۹۶۵ میں اس کو برطانیہ سے آزادی حاصل ہو گئی ۔ ۱۹۶۸ سے مالدیپ میں مکمل جمہور یہ قائم ہے۔ موجودہ دور میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ چھوٹی قومیں بھی اپنی آزاد حکومت قائم کر سکیں ۔ مالدیپ ۱۹۶۵ اسے اقوام متحدہ کا ممبر ہے۔ یہاں تقریباً ۸۵ فی صد لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔

مساوات اور قومی سالمیت اور انسانی آزادی کے احترام کا دور جو موجودہ زمانہ میں پیدا ہوا ہے اس کو عام طور پر لوگ اس جدید مغربی انقلاب سے منسوب کرتے ہیں جس کی ایک علامت اقوام متحدہ ہے۔ مگر خود جدید انقلاب اور اقوام متحدہ اس اسلامی انقلاب کی پیداوار ہیں جو چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے عالمی سطح پر پیدا کیا تھا ۔

۱۶ ویں صدی کے پرتگالی سیاح بار بوسا (Duarte Barbosa) نے جنوبی ہند کا سفر کیا تھا ۔ وہ ۱۵۰۴ اور ۱۵۱۱ کے درمیان دہیپا گرم آیا تھا۔ اس نے لکھا ہے کہ اس زمانہ نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page