Al-Risala · March 1988 · page 27

A taste of paradise

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۲۷

مالدیپ میں جہاز سازی کی صنعت قائم تھی۔ اور جنوبی ہند کے لوگ اپنی ضرورت کے جہاز مالدیپ میں بنوایا کرتے تھے۔ وجیا گرام کے راجہ کے جہاز بھی مالدیپ سے بن کر آتے تھے۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ' ڈسکوری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ سلطان ٹیپو کا باپ حیدر علی ( ۱۷۸۲- ۱۷۲۲) نہایت عزم اور حوصلہ والا آدمی تھا۔ وہ ہندوستان کی تاریخ میں ممتاز شخصیت کا مالک تھا۔ وہ پورے ملک کا لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ حیدر علی نے دوسروں سے بہت پہلے سمندری طاقت کا اندازہ کر لیا تھا اور یہ سمجھ گیا تھا کہ انگریزوں کی کامیابی کا اصل راز بحری طاقت میں ان کی برتری ہے۔ اس نے خود اپنا ایک بحری بیڑہ بنانا چاہا اور مالدیپ پر قبضہ کر کے اس کو جہاز سازی اور بحری سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی کوشش کی: He started building his own navy and, capturing the Maldive Islands, made them his head quarters for ship building and naval activities (p. 275). مالدیپ کے ساحل پر جب میں نے یورپ کی بنی ہوئی مشینی کشتیوں کی قطاریں دیکھیں تو میں نے کہا: روایتی جہاز سازی کے دور میں مالدیپ جہاز کا " تاج " تھا، مگر سائنسی جہاز سازی کے دور میں مالدیپ صرف " خریدار " بن کر رہ گیا۔ یہی موجودہ زمانہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کا حال ہے۔ مسلمان دورِ قدیم میں سب سے آگے تھے ، مگر دورِ جدید میں وہ سب سے پیچھے ہو گئے ۔ یہاں میرا قیام سن ڈھیرا اپلیس ہوٹل کے کمرہ نمبر ۱۰۸ میں تھا۔ یہ عین سمندر کے کنارے واقع ہے۔ ایک طرف ہوٹل کی عمارتوں کی صورت میں انسانی مصنوعات کا منظر ہے اور دوسری طرف سمندر کی لہروں اور پھیلے ہوئے آسمان کی صورت میں خدائی مصنوعات کا ۔ ہوٹل اور سمندر کے درمیان صرف ایک سڑک حائل ہے۔ سمندر کا یہ منظر میرے لئے ہمیشہ وسخر لكم ما في السموات والارض کی تصویر ہوتا ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے جزیروں کے مقابلہ میں سمندر ہیبت ناک حد تک بڑا ہے۔ مگر اس کی موجیں ساحل کو چھو کر اس طرح واپس چلی جاتی ہیں جیسے کہ ان کو ایک برتر حکم کے تحت پابند کر دیا گیا ہو کہ تمہاری حد یہاں ختم ہوگئی ، اس سے آگے تجاوز کرنے کی تمہیں اجازت نہیں۔

زندہ چیزوں میں ہاتھي اور غیر زندہمیں سمندر کا انسان کے لئے مسخر ہونا انتہائی عجیب ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page