Al-Risala · March 1988 · page 29

عالمی اسلامی مسائل پر رپورٹ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۲۹

خود مسلم اکثریت “ کا شکار ہو کر رہ گئے ۔

یہ بات جو مذکورہ پاکستانی نے اپنے ملک کے بارہ میں کہی ، یہی ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں بھی درست ہے۔ یہاں کے مسلمان جلسے جلوس ، تقریروں اور بیانوں کے ہنگامے تو دکھارہے ہیں مگر وہ ملکی نظام پر اثر انداز نہیں ہو پاتے۔ اور اسی کی مشترک وجہ یہ ہے کہ وہ اقلیت میں ہیں اور اس کے ساتھ غیر منظم بھی۔ ان کے موجودہ طریق کار کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ صرف غوغائی گروہ کا لقب حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اس Clamorous group کے بجائے “ تخلیقی گروہ “ بننا چاہئے۔ انہیں احتجاج اور مطالبہ کے بجائے اپنی افادیت ثابت کر کے اس ملک میں اپنا مقام حاصل کرنا چاہئے۔

ایک اور پاکستانی مسلمان نے بتایا کہ ۱۹۸۶ میں کراچی میں شیعہ سنی فساد کا سبب جلوس تھا۔ شیعہ حضرات نے ایک ایسے راستے سے اپنا جلوس نکالا جس پر سنی حضرات کو اعتراض تھا۔ انھوں نے روٹ بدلنے پر اصرار کیا۔ تاہم روٹ میں تبدیلی نہ ہوسکی اور فساد ہو گیا۔ یہی کہانی ہندوستان میں بھی بار بار دہرائی جارہی ہے۔ جلوس کے روٹ پر اعتراض کا سبب غالباً مسلمانوں کا بڑھا ہوا جذ بہ فخر ہے۔ جلوس کو مسلمان شان و شوکت کا مظاہرہ سمجھتے ہیں ، اس لئے غیر قوم کے جلوس کا اپنے علاقہ سے گزرنا انہیں گوارا نہیں ہوتا۔ مسلمانوں سے اگر جھوٹے فخر کی یہ نفسیات ختم ہو جائے تو جلوس جیسی چیزوں پر فساد بر پا ہونے کا سلسلہ بھی یقیناً ختم ہو جائے گا۔ ڈاکٹر شیر چو دھری جنوبی افریقہ سے آئے تھے ۔ وہ اصلاً پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر اب افریقہ میں وہاں کے شہری کی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔ انھوں نے ایک گفتگو کے دوران بہت دل چسپ بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اصلاح کیسے ہو۔ کوئی شخص جب مسلمانوں کی اصلاح کے لئے نکلتا ہے ، تو خواہ وہ جدھر بھی نکلے ، فوراً راستہ میں ایک مردہ آکر کھڑا ہو جاتا ہے اور اس کا سفر وہیں رک جاتا ہے (مردہ کھڑا ہونے سے ان کی مراد کیا تھی، اس کی تشریح ناظرین خود کر سکتے ہیں)

مذکورہ اسلامی کانفرنس کا ایجنڈا ( جدول الاعمال ) حسب ذیل تھا:

عالمی اسلامی مسائل پر رپورٹ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page