اسلامی تعلیم کا جائزہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۳۰
اسلامی تعلیم کا جائزہ
مشکلات جو عالمِ اسلامی کو درپیش ہیں ( المشاكل التي تواجه العالم الاسلامي) دنیا میں مسلم اقلیتوں کی حالت ( أوضاع الاقليات الاسلامية في العالم) دعوتِ اسلامی میں مسلم عورت کا حصّہ ( دور المرأة المسلمة فى الدعوة الاسلامية) 7 دسمبر سے ۱۱ دسمبر تک ان موضوعات پر بحث و گفتگو جاری رہی ۔ اپنے عام طریقہ کے مطابق میں اس سفر نامہ میں رپورٹ کے انداز کی تفصیلات درج نہیں کروں گا ۔ میں صرف ان چند یا دول کو پیش کروں گا جن میں کوئی سبق ہے اور جن میں عام لوگوں کے لئے غور و فکر کا سامان ملتا ہے ۔
کانفرنس کا افتتاح ۷ دسمبر ، ۱۹۸۸ کی صبح کو اسلامک سنٹر کے ہال میں کیا گیا۔ یہ وسیع اور خوبصورت اسلامک سنٹر ابھی حال میں مختلف اسلامی ملکوں کے تعاون سے تعمیر کیا گیا ہے ۔ کارروائی کا آغاز مالدیپ کے ایک قاری کی قرأتِ قرآن سے ہوا۔ قاری جب قرآن کی قرأت کر رہا تھا تو اچانک مجھے یاد آیا کہ دنیا کے جس گوشہ میں بھی میں نے کسی شخص کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا ہے ، اس کی زبان اور اس کا لہجہ ہمیشہ ٹھیک و ہی ہوتا ہے جو یہاں اس چھوٹے سے جزیرہ میں مجھ کو سنائی دے رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گو یا چودہ سو سال پہلے ایک زندہ ٹیپ تیار کیا گیا تھا ، یہ ٹیپ آج بھی اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے اور اسی ابتدائی آواز میں ہر جگہ لوگوں کو خدا کا ابدی پیغام سنا رہا ہے۔
مالدیپ کے صدر مامون عبد القیوم کے کلمات سے کانفرنس کی کارروائی شروع ہوئی ۔ انھوں نے اپنی عربی تقریر میں خصوصیت کے ساتھ باہمی اتفاق و اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا : لقد نسينا قول الله عزوجل ولا تنازعوا فتفشلوا وتذهب ريحكم)
ونسينا قول رسوله الكريم (لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا ولا تقاطعوا وكونوا عباد الله اخوانا)
میں نے سوچا کہ مسلمان کس قدر خوش قسمت ہیں کہ خدا اور رسول کے کلام کی صورت میں ان کے پاس ایک ایسا مستند ہدایت نامہ موجود ہے جس کا حوالہ باہمی معاملات میں دیا جاسکتا ہو اور جس کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues