Al-Risala · March 1988 · page 31

اسلامی تعلیم کا جائزہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۳۱

آگے تمام لوگوں مکہ گردنیں جھک جائیں۔ اس کے باوجود کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کا حال موجودہ زمانہ میں ایسا ہورہا ہے جیسے کہ ان کے پاس کوئی متفقہ فکری اور اعتقادی بنیاد ہی نہیں ۔ کسی قوم کے افراد میں اگر بے حسی پیدا ہو جائے تو انتہائی قیمتی پیغام بھی اس کے لئے بے اثر ہو جاتا ہے۔

مجھے جہاں کہیں بھی موقع ملا، میں نے دعوت کے پہلو پر زور دیا۔ ایک عرب مقرر نے اپنی تقریر میں کہا کہ كيف ندعوا غير المسلمين الى الاسلام والمسلمون منهزمون امام اعدائهم (ہم کیسے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف دعوت دے سکتے ہیں جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے سامنے شکستہ اور مغلوب ہورہے ہیں) میں نے کہا کہ قدیم کی میں مسلمان اپنے دشمنوں سے مغلوب تھے، اس کے باوجود انھوں نے ان کو دعوت دی اور کامیابی حاصل کی۔ تا تاری حملہ کے بعد مسلمان مغلوب ہو گئے تھے، پھر بھی انھوں نے ان کو دعوت دی اور اسلامی دعوت کے ذریعہ دوبارہ مسلم دنیا میں اسلام کی ایک نئی تاریخ ظہور میں آئی۔

موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر دوسرے پروگرام کو فورا سمجھ لیتے ہیں۔ مگر خالص اسلامی دعوت کا پروگرام ان کی سمجھ میں نہیں آتا، اگرچہ اس کے حق میں کتنے ہی زیادہ دلائل پیش کر دئے جائیں۔ دوسرے پروگراموں کی مسلسل ناکامی کے باوجود اس طریقہ کے بارے میں ان کا یقین ختم نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر "مسائل دنیا" کا غلبہ ہے ، ان کے اوپر "مسائل آخرت" کا غلبہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قومی اور دنیوی نوعیت کے مسائل فورا ہر شخص کی سمجھ میں آجاتے ہیں۔ مگر ان کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں مسلمانوں کو اقوام عالم کے اوپر گواہ بنانا چاہتا ہے اور آخرت کی یہ گواہی وہ اسی وقت دے سکتے ہیں جب کہ اس سے پہلے دنیا میں انھوں نے دعوت الی اللہ کا کام کیا ہو۔

عام طور پر لوگ بڑے بڑے واقعات سے دل چسپی لیتے ہیں اس کے برعکس مجھے ہمیشہ ان چیزوں سے دل چسپی ہوتی ہے جن کو لوگ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ مثلاً بین اقوامی اجتماعات میں فوری ترجمہ کا انتظام۔ یہ ایک عام اور معلوم بات ہے۔ مگر جب میں اس کو دیکھتا ہوں تو وہ مجھ کو اتنا عظیم معلوم ہوتا ہے کہ شدت تاثر سے میرے جسم میں تھرتھری پیدا ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues

Printed page