اسلامی تعلیم کا جائزہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۸، صفحہ ۳۲
ایک شخص عربی زبان میں تقریر کر رہا ہے۔ عین اسی وقت اس کی تقریر انگریزی زبان میں منتقل کی جارہی ہے۔ مثلاً ایک مقرر اپنی تقریر کے دوران ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہتا ہے : لذالك انی اقترح، عین اسی وقت مترجم کہتا ہے Therefore I propose اسی طرح مثلاً ایک شخص کی تقریر کے دوران دوسرا شخص مداخلت کرتے ہوئے کہتا ہے : عین اسی وقت مترجم کہتا ہے : نقطہ نظام۔ بظاہر یہ ایک انسانی واقعہ ہے Point of order مگر جب میرے سامنے یہ واقعہ گزرا تو وہ مجھے ایک خدائی کرشمہ معلوم ہونے لگا۔ میں نے سوچا کہ دو الگ الگ ذہنوں کے درمیان ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ میں انتہائی کامل مطابقت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ دونوں شخصیتوں کا خالق (بالفاظ دیگر منصوبہ ساز) ایک ہو۔ اور دونوں کا منصوبہ ساز ایک ہستی کو مانتے ہی یہ ماننا بھی لازم ہو جاتا ہے کہ انسان کا خالق " شعور " ہے نہ کہ بے روح مادی اسباب کا اندھا تعامل۔
اسی طرح بڑی کانفرنسوں میں یہ منظر عام ہے کہ ٹیلی وژن کے آدمی مشین لئے ہوئے موجود ہیں اور لوگوں کی آوازیں اور ان کی حرکات ریکارڈ کر رہے ہیں۔ 9 دسمبر کی رات کو میٹنگ چل رہی تھی۔ حسب معمول دو آدمی اپنی مشینوں کے ساتھ اپنی کارگزاری میں مصروف تھے۔ میں نے اس منظر کو دیکھا تو اچانک وہ میرے ذہن میں اُس واقعہ میں مبدل ہو گیا جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے : اذ یتلقى المتلقيان عن اليمين وعن الشمال قعيد (ق : ۱۷) ایک منٹ کے لئے مجھے ایسا لگا جیسے واقعتاً ہمارے دونوں طرف فرشتے کھڑے ہوئے ہیں اور نہایت صحت کے ساتھ ہمارے قول و عمل کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔
ایک بزرگ (شیخ راشد فرحان) نے کہا تھا کہ ہمیں سیاست سے الگ رہ کر صرف دعوت کے کام پر مرتکز رہنا چاہئے ۔ اس پر ایک نوجوان نے پرجوش طور پر کہا کہ اسلام صرف مذہب نہیں، اسلام سیاست بھی ہے۔ اس لئے ہم اپنے پروگراموں سے سیاست کو الگ نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر اسکندر نے کہا: یہ صحیح ہے کہ اسلام دین اور سیاست دونوں ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اسلام حکمت بھی ہے۔ اور حکمت کا تقاضا ہے کہ اس وقت ہم سیاسی مسائل سے الگ رہیں ۔ ورنہ کوئی بھی کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ہم کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ کل کو لیتے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1988 All issues