حکمت دعوت
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۱۴
حکمت دعوت
لکُلِ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاًهُمْ نَاسِکُوْهٗ فَلَا يُنَازِعُنَّکَ ہر امت کے لیے ہم نے ایک طریقہ ٹھہرادیا تو وہ اسی فِی الْاَمْرِ وَادْعُ إِلٰی رَبِّکَ اِنَّکَ لَعَلٰی هُدًی مُّسْتَقِیْمِ طرح عمل کرتے ہیں۔ پس وہ تم سے اس امر میں وَ اِنْ جَادَلُوْکَ فَقُلِ اﷲُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ، بیشک اﷲُ يَحْکُمُ بَیْنَکُمْ يَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْهِ تم سیدھی راہ پر ہو۔ اور اگر وہ تم سے جھگڑا کریں تو تَخْتَلِفُوْنَ - کہو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اللہ (الحج ۶۷-۶۹) تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے۔
اس آیت کے شانِ نزول کے سلسلہ میں یہ روایت آئی ہے کہ وہ اس وقت اتری جب کہ مشرکوں ( بدیل بن ورقاء بشر بن سفیان، یزید بن خنیس) نے اہلِ ایمان سے کہا کہ تمہارا کیا حال ہے کہ جس جانور کو تم نے مارا اس کو تم کھاتے ہو اور جس جانور کو خدا نے مارا اس کو تم نہیں کھاتے، یعنی مردار کو ( نزلت حين قال المشرکون للمسلمین ما لکم تاكلون ما قَتَلَهُتم ولا تاكلون ما قتل الله یعنی المیتۃ ، تفسیر النسفی ، الجزء الثالث، صفحہ ۱۱۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں تشریف لائے تو عرب کے لوگ معروف معنوں میں بے دین نہ تھے۔ انھوں نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے نام پر ایک ڈھانچہ اختیار کر رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات اس مذہبی ڈھانچے سے ٹکراتی تھیں۔ (مثلاً ان کے مروجہ مذہب میں مردار جائز تھا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حرام بتاتے تھے) اس طرح کے اختلافات کی بنا پر وہ آپ سے بدکتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو بزرگوں کے راستہ پر چلنے والا کہتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بزرگوں سے ہٹ کر نیا راستہ نکالا ہے۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت دی گئی کہ آپ ان ظواہر میں نہ الجھیں۔ جو لوگ اس قسم کی چیزوں کو لے کر بحث کرتے آئیں، ان سے اعراض کرتے ہوئے اصل صراطِ مستقیم (دعوت الی اللہ) پر قائم رہیں۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنے مدعو کے سامنے ہمیشہ اساسی تعلیمات
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues