Al-Risala · April 1988 · page 15

حکمت دعوت

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۱۵

رکھے، وہ ظاہری امور اور فروعی اختلافات میں اس سے نہ اُلجھے۔

آیت میں فلا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ کا فقرہ ہے اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اس امر میں وہ تم سے جھگڑا نہ کریں۔ یہاں خطاب کا رخ بظاہر فریق ثانی کی طرف ہے۔ مگر یہ ایک اسلوب ہے۔ ورنہ یہاں اصل مخاطب خود فریقِ اول ہے۔ یعنی ظاہر کلام کے اعتبار سے مدعو سے کہا جا رہا ہے کہ وہ جھگڑا نہ کریں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہاں یہ کہا گیا ہے کہ تم ان سے جھگڑا نہ کرو۔ عربی میں اگر یہ کہا جائے کہ لا یضربنّك زید تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ زید کو منع کیا گیا کہ وہ تم کو نہ مارے ۔ بلکہ خود مخاطب سے کہا گیا کہ تم یک طرفہ احتیاط کے ذریعہ اس کی کوشش کرو کہ زید تم کو مارنے نہ پائے : قال الزجاج معنی قوله (لا ينازعنك) لا تنازعهم زجاج نے کہا کہ لا یُنازعنّک کا مطلب یہ ہے کہ أنت ۔ كما يقال لا يخاصنّك فلان ۔ ای تم خود ان سے نزاع نہ کرو۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے لا تخاصمه - وهذا جائز فيما يكون بين فلاں آدمی تم سے مخاصمت نہ کرے، یعنی تم اس سے اثنين - وذلك لان المنازعة و مخاصمت کی نوبت نہ آنے دو۔ یہ اس وقت کے المخاصمة لا تتم الا باثنين فاذا ترك لیے ہے جب کہ نزاع دو آدمیوں کے درمیان ہو۔ احد هما ذهبت المخاصمة ۔ اس لیے کہ نزاع اور جھگڑا دو آدمیوں کے بغیر (التفسير المظهري، المجلد السادس، صفحه (۳۴۶) نہیں ہو سکتا۔ پس جب دونوں میں سے ایک شخص نزاع چھوڑ دے تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔

اس قرآنی حکم کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو شخص خدا کے دین کی دعوت دینا چاہتا ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ دعوت کے ساتھ نزاع کو جمع نہ کرے۔

داعی اور مدعو کے درمیان اگر نزاع کی فضا ہو تو مدعو کبھی کھلے ذہن کے ساتھ داعی کی بات نہیں سنے گا۔ اس لیے داعی کو یک طرفہ طور پر یہ ذمہ داری لینی پڑتی ہے کہ صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کر کے اپنے اور مدعو کے درمیان معتدل فضا کو باقی رکھے تا کہ مدعو اس کی باتوں پر ہمدردانہ غور کر سکے۔

ہر نزاع ختم ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ایک فریق اس کو بلا شرط ختم کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page