تین قسم
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۱۶
تین قسم
عن بریدة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ القضاة ثلاثة. واحد فی الجنة واثنان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ فیصلہ کرنے والے فی النار۔ فاما الذی فی الجنة فرجل عرف تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں ایک جنت میں الحق فقضی به و رجل عرف الحق جائے گا اور دو آگ میں جائیں گے ۔ پس جنت فجار فی الحكم فهو فی النار و رجل والا وہ شخص ہے جس نے حق کو پہچانا اور اس قضی للناس علی جهل فهو فی النار۔ کے مطابق فیصلہ کیا ۔ اور دوسرا شخص وہ ہے ( رواه ابوداؤد و ابن ماجه ) جس نے حق کو پہچانا پھر اس کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ آگ میں جائے گا۔ تیسرا شخص وہ ہے جو جہالت کی بنیاد پر لوگوں کے لیے فیصلہ کرے تو وہ بھی آگ میں جانے والا ہے۔
حق کو جاننے کے لیے باطل کے پردوں کو پھاڑنا پڑتا ہے۔ پھر حق کو جاننے کے بعد اس کو ماننا اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کرنا بھی قربانی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ اس معرفت اور اس قربانی کا ثبوت دیں وہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرتے ہیں کہ انھیں جنت میں داخل کیا جائے اور بلاشبہ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں داخل کیے جائیں گے۔ بقیہ دو قسم کے لوگ جنت میں جگہ پانے کے قابل نہیں۔ جو شخص حق کو جاننے کے بعد اس سے انحراف کرے وہ خدا کے مقابلہ میں سرکشی کرتا ہے ۔ ایسے شخص کو جہنم کے سوا اور کہاں جگہ مل سکتی ہے۔ اسی طرح تیسرا شخص بھی خدا کی سزا کا مستحق ہے ۔ کیوں کہ وہ خدا کے معاملہ میں سنجیدہ ثابت نہ ہو سکا۔ کوشش کے باوجود اجتہادی خطا کرنا قابل معافی ہے مگر تیاری اور تحقیق کے بغیر شرعی امور میں فیصلے دینا قابل معافی نہیں۔
یہاں جس " فیصلہ " کا ذکر ہے ، اس کا تعلق صرف عدالت سے نہیں بلکہ تمام امور سے ہے۔ ہر آدمی ہر آن فیصلے کر رہا ہے ، ہر آدمی ہر آن اپنے آپ کو یا جنت کا مستحق بنا رہا ہے یا دوزخ کا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues