موقع شناسی
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۱۷
موقع شناسی
غزوہ احد شوال ۳ھ ہیں پیش آیا۔ اس جنگ میں ابتداءً مسلمان غالب رہے۔ مگر بعد کو انھیں شکست ہوئی۔ تقریباً ستر اصحاب شہید ہوئے۔ جب مسلمان منتشر ہوگئے تو دشمنوں کا ہجوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا۔ انھوں نے آپ کے اوپر پتھر پھینکنے شروع کیے۔ عبداللہ بن قمہ اور عقبہ بن ابی وقاص وغیرہ نے آپ پر اس زور کے ساتھ پتھر مارے کہ آپ کا چہرہ لہولہان ہوگیا۔ سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔ لوہے کی خود کی دو کڑیاں آپ کے رخسار میں اندر تک گھس گئیں۔ بعد کو ابو عبیدہ بن الجراح نے ان کڑیوں کو اپنے دانتوں سے پکڑ کر کھینچا تو ان کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر ایک پہلو پر گرپڑے۔ اس وقت آپ نے پہاڑ کے ایک گڑھے میں پناہ لی تاکہ آپ دشمنوں کی نظر سے اوجھل ہو جائیں۔ لوگوں نے آپ کو نہیں دیکھا تو مشہور ہوگیا کہ آپ شہید ہوگئے۔ اس خبر سے آپ کے اصحاب میں زبردست سراسیمگی پھیل گئی۔ اس ہنگامی حالت میں جو مختلف واقعات پیش آئے ان میں سے ایک یہ تھا :
قال ابن اسحاق : وكان اول من عرف رسول الله صلی الله علیه وسلم بعد الهزيمة وقول الناس قُتِلَ رسول الله صلی الله علیه وسلم ـ كما ذكر ابن شهاب الزهری ـ كعب بن مالك ، قال : عَرَفْتُ عينيه الشريفتين تزهران من تحت المِغْفَرِ ، فناديتُ بأعلى صوتی يا معشر المسلمين ابشروا ، هذا رسول الله صلی الله علیه وسلم ، ناشار الى رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان أَنْصِتْ " سيرة ابن هشام صفحه ۳۱ ابن اسحاق کہتے ہیں ۔ اور پہلا شخص جس نے شکست کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا اور لوگوں کے اس قول کے بعد کہ آپ قتل کر دیے گئے، جیسا کہ ابن شہاب زہری نے بیان کیا، وہ کعب بن مالک ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی دونوں آنکھوں کو خود کے اندر سے چمکتے ہوئے دیکھا اس وقت میں نے بلند آواز سے پکارا، اے مسلمانو، تمہارے لیے خوش خبری ہو۔ یہ میں اللہ کے رسول۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ فرمایا کہ چپ رہو۔ صحابی نے اس وقت جو جملہ کہا تھا اس کو الگ کر کے دیکھیے۔ انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues