موقع شناسی
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۱۸
مسلمانوں، تمہیں خوش خبری ہو، اللہ کے رسول یہاں موجود ہیں۔ بظاہر یہ ایک صحیح اور معصوم جملہ ہے۔ بلکہ وہ ایک ایسا جملہ ہے جس پر کہنے والے کو ثواب ملنا چاہیے اور اس کی تعریف میں اَحْسَنْتَ اور صَدَقْتَ کا غلغلہ بلند ہونا چاہیے ۔ مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے انہیں چپ رہنے کے لیے کہا۔ اور وہ بھی زبان سے نہیں کہا بلکہ اشارہ سے کہا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اس وقت نہ خود بولنا پسند فرمایا اور نہ یہ چاہا کہ کوئی دوسرا شخص اس موقع پر بولے۔ مذکورہ موقع پر کیوں ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بولنے سے منع فرمایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت آپ دشمنوں کی نگاہ سے اوجھل تھے۔ چوں کہ اس وقت آپ شدید زخمی تھے، اس لیے آپ کا لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہنا ہی قرین مصلحت تھا۔ اگر وہ لوگ جان لیتے کہ آپ یہاں گڑھے میں ہیں تو وہ ہجوم کر کے وہاں آتے اور آپ کے اوپر مزید پتھر برسانا شروع کر دیتے ۔ ایسے نازک موقع پر چپ رہنا زیادہ بہتر تھا نہ کہ بولنا۔
اسی کا نام موقع شناسی ہے۔ عملی کارروائی ہمیشہ حالات اور مواقع کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔ جس کارروائی میں حالات اور مواقع کی رعایت شامل نہ ہو وہ خودکشی ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی عملی کارروائی ۔
حالات کبھی یکساں نہیں رہتے ، ان میں بار بار تبدیلی ہوتی ہے، اس لیے طریق عمل میں بھی بار بار تبدیلی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کبھی ایک مقصد کو اعلان کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے کبھی اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اخفاء کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ کبھی آدمی مجبور ہوتا ہے کہ فریق ثانی کے ساتھ مقابلہ کرے ، کبھی زیادہ کامیاب تدبیر یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مقابلہ کے میدان سے ہٹا دے۔ کبھی پانے کی کوشش کا نام پانا ہوتا ہے اور کبھی پانا اس کا نام ہوتا ہے کہ کھونے کو برداشت کر لیا جائے۔
موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہ حکمت اتنی زیادہ ضروری ہے کہ اللہ کے پیغمبر کو بھی اس کی رعایت کرنی پڑی ، پھر دوسرے لوگ اس کی رعایت کیے بغیر کیسے کوئی حقیقی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues